بیت بازی

by Other Authors

Page 231 of 871

بیت بازی — Page 231

231 ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ هم م گھر گھر پڑا ہے دیں کا ماتم؛ غضب ہوا گلشن احمد میں آ جائے؟ بہار اندر بہار دل لبھائے؛ عندلیب خوشنمائے قادیاں گلشن حضرت احمد میں چلی بادِ بہار ابر رحمت سے برسنے لگے پیہم انوار گوشہ نشیں کو ناز ہے یہ؛ بے ریا ہوں میں جو نامور ہوئے؛ انہیں شہرت پہ ناز ہے لہرا رہا کفر کا پرچم؛ غضب ہوا گویا تو کنکر پتھر تھی ، احساس نہ تھا، جذبات نہ تھے تو ہین وہ اپنی یاد تو کر ؛ ترکہ میں بانٹی جاتی تھی گھرتے ہیں اسی دائرہ میں پانچوں حواس آہ! جب قلب پھر جاتی ہے پر کار محبت گرفتار بلا ہوں اپنے ہاتھوں کرم؛ آزاد کر دے دست گھر تھا صدف تو تم در خوش آب و بے بہا اس سے بھی بڑھ کے دولتِ عصمت نصیب ہو وبے گنہگاروں ؛ بڑھا پہ وہ پیاروں کی خاطر کرم کیا کیا نہیں فرما رہا ہے گھر والے تو یاد آئیں گے؛ یاد آئے گا گھر بھی یہ صحن، یہ دیوار، یہ در؛ تیرے حوالے گالیاں کھا کر دعا دو؛ پا کے دکھ آرام دو روز دل پر تیر کھاؤ؛ حکم ہے دلدار کا گریه یعقوب نصف شب خدا کے سامنے صبر ایوبی برائے خلق باخندہ جبیں گھرے ہیں جو بادل ؛ یہ پھٹ جائیں سارے ہوائیں تو رحمت کی اپنی چلا دے ہے کاش! ایسے میں وہ بھی آجائے گل کھلے ہیں؟ بہار آئی گو جدائی کلام طاهر کٹھن دور بہت ہے منزل پر میرا آقا بلا لے گا مجھے بھی؛ اے ماں! گھر آئیں گے میں گھنگھور گھٹا نائیں جھوم اٹھیں مخمور ہوائیں جھک گیا ابر رحمت باری؛ آب حیات نو برسانے گاڑ دیا توحید کا پرچم صلی گو دیر بعد آیا از راه دور لیکن تم کو بلا رہا ہے؛ وہ تیز گام آگے بڑھتا ہی جا رہا ہے خدام احمدیت! خدام احمدیت! گھبرا کے دردہجر سے اے مہمان عشق جس من میں آ کے اُترے ہو؛ وہ من اداس ہے گلشن میں پھول، باغوں میں پھل ؛ آپ کیلئے جھیلوں پر کھل رہے ہیں کنول؛ آپ کیلئے ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸