بیت بازی — Page 229
229 کر تو کل جس قدر چاہے؟ کہ اک نعمت ہے یہ یہ بتا دے باندھ رکھا اونٹ کا گھٹنا بھی کیوں نہ ہو؛ وہ صاحب معراج کے شاگرد ہیں آسماں پر اُڑ رہا ہے اس لیے اُن کا سمند i == iii iv گ (اگ' سے شروع ہونے والے اشعار ) تعداد گل اشعار در ثمين در عَدَن كلام طاهر کلام محمود در ثمین 107 27 15 16 49 ۵۵۶ وہ رسته چلو؛ جو تمہیں بتایا ا گرو نے تو کر کے دکھایا تمہیں گالیاں سُن کر، دعا دو؛ پا کے دکھ، آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار گالیاں سُن کے؛ دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں؛ اور غیظ گھٹایا ہم نے گماں ہے کہ نفلوں میں ہو کچھ خطا کہ انساں نہ ہووے؛ خطا سے جدا گردنوں پر ان کی ہے سب عام لوگوں کا گنہ جن کے وعظوں سے جہاں کے آگیا دل میں غبار گر کہے کوئی کہ یہ منصب تھا شایانِ قریش وہ خدا سے پوچھ لے؛ میرا نہیں یہ کاروبار گو وہ کافر کہہ کے ہم سے دُور تر ہیں جا پڑے ان کے غم میں ہم تو پھر بھی ہیں حزین و دلفگار م ۵ ۶ ۷