بیت بازی — Page 212
212 ۲۰۶ ۲۰۷ ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ود رعدن کفر کے ہاتھوں سے پاسکتے نہیں جائے مفر نرغہ بد باطناں سے بڑھ رہا ہے شوروشر کیوں نہ ہو ہر اہلِ دل کا دیکھ کر زخمی جگر کشتی دین محمد ؛ جس نے کی تیرے سپرد ہو تیری کشتی کا حافظ؛ وہ خدائے قادیاں کس کے محبوب کی آمد ہے؛ کہ ہر خورد و کلاں نشہ عشق میں؛ مخمور نظر آتا ہے کیونکر کہوں کہ ناز سے خالی ہے میرا دل پیارے! مجھے بھی تیری محبت پہ ناز ہے کیا کہیں ہم کہ کیا دیا تو نے کیوں نہ پھر ہو جمال میں کامل ہر بلا چھڑا دیا تو نے جب کہ نور جمیل که ہے احمد کیا تیری قدر و قیمت تھی کچھ سوچ تری کیا عزت تھی تھا موت سے بد کر وہ جینا؛ قسمت سے اگر بچ جاتی تھی کوئی راہ نزدیک تر راہ محبت سے سے نہیں خوب فرمایا یہ نکته مهدی آخر زماں کیا دیکھ لیا پھر جو پلٹ کر نہیں دیکھا کھوئے گئے دنیا سے پرستار محبت میں تیرے گرم ہے بازار محبت سر کر بیچتے پھرتے ہیں خریدار محبت کون دیتا جان دنیا میں کسی کے واسطے تو نے اس جنس گراں مایہ کو ارزاں کر دیا ۲۱۷ کھڑکا نہ کوئی فعل تمہارا مجھے تمہیں آرام قلب و جان و آرام قلب و جان و سکینت نصیب ہو ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ ۲۲۵ کو کر دیئے سینے سپر مرتے گئے بڑھتے گئے ہے منہ پھرایا کفر کے لشکر جرار کا ہر کیا یہ بہتر نہیں مولا تیرا ناصر ہو جائے نامرادی عدد خلق ظاہر ہو جائے کون دکھلائے گا ہم کو آسمانی روشنی؟ چودھویں کا چاند چھپ جائے گا اب زیر زمیں کر نہیں سکتا کوئی انکار عالم سے گواہ جو کہا تھا اُس نے آخر کر دکھایا بالیقیں کوئی پوچھے کس گنہ کی اس کو ملتی تھی سزا؟ کس خطا پر تیر برسائے؟ گروہ ظالمیں! کیا التجا کروں کہ مجسم دعا ہوں میں سر تا به پا سوال ہوں؛ سائل نہیں ہوں میں کشتی عمر رواں یکدم کدھر کو مرد گئی اک ہوا ایسی چلی؛ کہ گھر کی رونق اُڑ گئی کوئی ہمسر نہیں جس کا نہ ثانی پیتہ اس یار کا اس نے دیا ہے