بیت بازی

by Other Authors

Page 211 of 871

بیت بازی — Page 211

211 ۱۸۶ 1^2 ۱۸۸ ۱۸۹ ١٩٠ ۱۹۱ کرتا ہے معجزوں سے وہ یار دیں کو تازہ اسلام کے چمن کی بادصبا یہی ہے کس کام کا وہ دیں ہے؛ جس میں نشاں نہیں ہے دیں کی میرے پیارو! ذریں قبا یہی ہے کیڑا جو دب رہا ہے؟ گوبر کی تہ کے نیچے اُس کے گماں میں اُس کا ارض و سما یہی ہے کچھ گم نہیں جوں سے؛ یہ ہندوؤں کا ایشر سچ پوچھیئے تو واللہ! بُت دوسرا یہی ہے کہنے کو وید والے؛ پر دل ہیں سب کے کالے پردہ اُٹھا کے دیکھو! اِن میں بھرا یہی ہے کیا وصف اُس کے کہنا؛ ہر حرف اُس کا گہنا دلبر بہت ہیں دیکھے؛ دل لے گیا یہی ہے کہتے ہیں حسن یوسف دلکش بہت تھا؛ لیکن خوبی و دلبری میں؛ سب سے ہوا یہی ہے کیوں ہو گئے ہیں اس کے دشمن یہ سارے گمراہ وہ رہنما ہے؛ راز چون و چرا یہی ہے کہتے ہیں جوشِ اُلفت یکساں نہیں ہے رہتا دل پر میرے پیارے! ہر دم گھٹا یہی ہے ۱۹۵ کیونکر تہہ وہ ہووے؛ کیونکر فنا وہ ہووے ظالم جو حق کا دشمن؛ وہ سوچتا یہی ہے کس دیں پہ ناز اُن کو جو وید کے ہیں حامی مذہب جو پھل سے خالی؛ وہ کھوکھلا یہی طاقت کہ اک جاں بھی کرے پیدا بقدرت ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ ۱۹۶ ۱۹۷ که گر ایشر نہیں رکھتا ۱۹۸ نہ کہاں کرتی عقل اُس کو گوارا کہ بن قدرت ہوا ہے نہ ہے جگت سارا 199 کہ کر سکتا نہیں اک جاں کو پیدا اک ذرہ ہوا اُس سے ہویدا ۲۰۰ ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۳ ۲۰۴ ۲۰۵ کہ جس دم پاگئی مکتی ہر اک جاں سے لائے گا کہاں وہ تو پھر کیا رہ گیا ایشر کا ساماں دوسری رُوح کہ تا قدرت کا ہو پھر باب مفتوح کیا یہی تقویٰ یہی اسلام تھا جس کے باعث سے تمہارا نام تھا کیا خوب ہے یہ کتاب سُبحان الله اک دم میں کرے ہے دِینِ حق سے آگاہ کبھی نصرت نہیں ملتی درمولی سے گندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے، بس مدعا یہی ہے