بیت بازی — Page 213
213 ۲۲۶ ۲۲۷ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ کوئی اس کو نہ جب تک آپ چھوڑے کسی کو خود نہیں وہ چھوڑتا ہے کچھ ایسے گل ہیں جو پژمردہ ہیں جدا ہو کر انہیں بھی یاد رکھو؛ گلستاں میں رہتے ہو کیا کرتے جو حاصل یہ وسیلہ بھی نہ ہوتا یہ آپ سے دو باتوں کا حیلہ بھی نہ ہوتا کب راہ ان کی تیرے فرشتے کریں گے صاف کب ہوں گے واپسی کے اشارے کب آئیں گے کب پھر منار شرق پہ چمکے گا آفتاب شب کب کٹے گی ؛ دن کے نظارے کب آئیں گے کہتا ہے رو کے دل شب تاریک ہجر میں وہ مہر و ماہتاب تمہارے کب آئیں گے؟ ۲۳۲ کڑا وقت ہے اور بڑا اضطراب کھلے ہیں مگر اس کی رحمت کے باب ہونا ملول دعائیں کرو؛ میں کروں گا قبول انہیں تندرستی عطا کر بلائیں ٹلیں اور خوشیاں دیکھا دے ۲۳۱ ۲۳۳ ۲۳۴ ۲۳۵ I ۲۳۶ ۲۳۷ ۲۳۸ ۲۳۹ ۲۴۰ ۲۴۱ ۲۴۲ ۲۴۳ ۲۴۴ کہا میرے بندو! نہ کرم کہو سننے والو! میرے ساتھ آمین خدا تم کو بہتر سے بہتر جزا دے کون جی میرا آج پہلائے کس کو دل داغ اپنے دکھلائے کرنا ہے جس کو پار؛ وہ سرحد قریب ہے ہمت کرو زمین آب و جد قریب ہے کہہ چکا ہے رحمت عالم کا فرزند جلیل 'ہم ہوئے دلبر کے اور دلبر ہمارا ہوگیا ' کام کو جس کے چلا ہے خود وہ تیرے ساتھ ہے اے میرے ناصر! ہے تیرا حافظ و ناصر خدا کب تک ہوائیں چرخ چہارم کی کھاؤ گے اے ابنِ مریم! اب بھی تشریف لاؤ گے کاغذی عکس بھی ہیں دل پہ مرے نقش ؛ مگر بولتی ہنستی وہ تصویر کہاں سے لاؤں؟ کیوں نہ تڑپا دے وہ سب دنیا کو اپنے سوز سے درد میں ڈوبی کلام طاهر نکلتی ہے؛ صدائے قادیاں کر ڈالیں مسمار مساجد؛ لُوٹ لئے کتنے ہی معاہد جن کو پلید کہا کرتے تھے لے بھاگے سب اُن کا جوٹھا کاٹھ کی ہنڈیا کب تک چڑھتی ؛ وہ دن آنا تھا کہ پھٹتی وہ دن آیا اور فریب کا چورا ہے میں بھانڈا پھوٹا ۲۴۵ کہتے ہیں پولیس نے آخر ؛ کھود پہاڑ، نکالا چوہا جاء الحق وزهق الباطل ان البــــــــاطــــل کــــــــان زهـــــوقـــــــا