بیت بازی — Page 210
210 ۱۶۴ ۱۶۶ ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۶۹ 121 ۱۷۳ کیسا کوشش بھی وہ ہوئی؛ کہ جہاں میں نہ ہو کبھی پھر اتفاق وہ؛ کہ زماں میں نہ ہو نہ ہو کبھی ۱۲۵ کچھ ایسا فصل حضرت رب الوری ہوا سب دشمنوں کے دیکھ کے اوساں ہوئے خطا کوئی اگر خدا پر کرے کچھ بھی افترا ہو گا وہ قتل؛ ہے یہی اس مجرم کی سزا کرتا نہیں ہے اُن کی مدد وقت انتظام تا مفتری کے قتل سے؛ قصہ ہی ہو تمام کیا وہ خدا نہیں ہے؛ جو فرقاں کا ہے خدا پھر کیوں وہ مفتری سے کرے؛ اس قدر وفا یہ فضل اس سے نمودار ہو گیا اک مُفتری کا وہ بھی مددگار ہو گیا ۱۷۰ کیا راستی کی فتح نہیں وعدہ خدا دیکھو تو کھول کر سخن پاک کبریا کیا یہ عجب نہیں ہے؛ کہ جب تم ہی یار ہو پھر میرے فائدے کا ہی سب کاروبار ہو ۱۷۲ کذاب نام اس کا دفاتر میں رہ گیا چالاکیوں کا فخر جو رکھتا تھا بہہ گیا کوئی بھی مفتری ہمیں دنیا میں اب دیکھا جس پر یہ فضل ہو؟ یہ عنایات، یہ عطا ۱۷۴ کیا تھا یہی معاملہ پاداش افترا کیا مفتری کے بارے میں وعدہ یہی ہوا کیوں ایک مفتری کا وہ ایسا ہے آشنا یا بے خبر ہے عیب سے؛ دھوکے میں آگیا کیونکر راه پاوے کرے؛ تب بے گماں مُردوں میں جاوے کہاں آیا کوئی تا وہ بھی آوے کوئی اک نام ہی ہم کو بتاوے کیونکر ہو وہ نظر؛ کہ تمہارے وہ دل نہیں شیطاں کے ہیں؛ خدا کے پیارے وہ دل نہیں کچھ کچھ جو نیک مرد تھے ؛ وہ خاک ہو گئے باقی جو تھے؛ وہ ظالم و سفاک ہو گئے یہ ہے تریاق ہر ورق اس کا صحت جام کیا وہ خدا جو ہے تری جان کا خدا نہیں ایماں کی بُو نہیں؛ ترے ایسے جواب میں کوئی کشتی اب بچا سکتی نہیں اس سیل سے چیلے سب جاتے رہے؛ اک حضرتِ تواب ہے کیوں نہ آویں زلزلے؛ تقویٰ کی رہ گم ہوگئی اک مُسلماں بھی؛ مُسلماں صرف کہلانے کو ہے کس نے مانا مجھ کوڈ ر کر کس نے چھوڑا بغض و کیں زندگی اپنی تو اُن سے گالیاں کھانے کو ہے کافر و دجال اور فاسق ہمیں سب کہتے ہیں کون ایماں صدق اور اخلاص سے لانے کو ہے ۱۷۵ ۱۷۶ 122 IZA 129 ۱۸۰ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۳ ۱۸۴ ۱۸۵ کوئی مُردوں سے کفر کے زہر کو ہے