بیت بازی

by Other Authors

Page 209 of 871

بیت بازی — Page 209

209 ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۵ ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۴۸ ۱۴۹ ۱۵۱ ۱۵۲ ۱۵۳ ۱۵۴ ܬ݂ܝܺܙ ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۰ ۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۳ کیوں نہیں ڈرتے خدا سے ؛ کیسے دل اندھے ہوئے بے خدا ہرگز نہیں بد قسمتو ! کوئی سہار رکھتا ہے ارادت کوئی جو ظن بد رکھتا ہے عادت بدی سے خود وہ کوئی جو مُردوں کے عالم میں جاوے وہ خود ہو مُرده؛ تب وہ راہ پاوے کہو زندوں کا مُردوں سے ہے کیا جوڑ یہ کیونکر ہو کوئی ہم کو بتاوے کھل گئی ساری حقیقت سیف کی گم کرو اب ناز اس مُردار سے کیوں غضب بھڑ کا خدا کا؛ مجھ سے پوچھو غافلو! ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن کرم خاکی ہوں مرے پیارے! نہ آدم زاد ہوں فضل کا پانی پلا ؛ اس آگ برسانے کے دن کچھ خبر لے؛ تیرے کو چہ میں یہ کس کا شور ہے کیا مرے دلدار ! تو آئے گا مر جانے کے دن کون روتا ہے؛ کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا کر زہ آیا اس زمیں پر؛ اُس کے چلانے کے دن کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو کچھ ایسے سوئے، کہ پھر نہ جاگے؛ یہی تھا آخر کا قول لیکن تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر کچھ کم نہیں یہودیوں میں یہ کہانیاں پر دیکھو کیسے ہو گئے شیطاں سے ہم عناں کیونکر ملے فسانوں سے وہ دلبر اذل گر اک نشاں ہو ملتا ہے سب زندگی کا پھل کیا زندگی کا ذوق؛ اگر وہ نہیں ملا لعنت ہے ایسے جینے پہ؛ گر اُس سے ہیں جُدا کوئی بتائے ہم کو؛ کہ غیروں میں یہ کہاں قصوں کی چاشنی میں؛ حلاوت کا کیا نشاں کیوں بڑھ گئے زمیں پر بُرے کام اس قدر کیوں ہو گئے عزیزو! یہ سب لوگ کور و کر کیوں اب تمہارے دل میں وہ صدق وصفا نہیں کیوں اس قدر ہے فسق؛ کہ خوف و حیا نہیں کیوں زندگی کی چال سبھی فاسقانہ ہے کچھ اک نظر کرو؛ کہ یہ کیسا زمانہ ہے کچھ ایسے مست ہیں وہ رُخِ خُوب یار۔ڈرتے کبھی نہیں ہیں وہ دشمن کے وار سے ہے یہ تو بنده عالی جناب ہے مجھ سے لڑو؛ اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے کھینچے گئے کچھ ایسے؛ کہ دنیا سے سو گئے کچھ ایسا نور دیکھا کہ اس کے ہی ہو گئے کچھ ایسے سوگئے ہیں ہمارے یہ ہم وطن اُٹھتے نہیں ہیں؛ ہم نے تو سوسو کئے جتن ނ