بیت بازی — Page 187
187 ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۸ ۶۰ บ عشق میں اس کے؛ نہ ہو کوئی ملونی جھوٹ کی جو زباں پر ہو؛ وہی اعمال سے ہو آشکار عقیده ثنویت ہو، یا کہ ہو تثلیث ہے کذب بحث وخطا؛ لا إله إلا الله عشق میں کھوئے گئے ہوش و حواس و فکر و عقل آب سوال دید جائز ہے؛ کہ ناداروں میں ہوں عادت ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشقِ صنم؛ لب پہ مگر نام نہ ہو عقل کو دین پر حاکم نہ بناؤ ہرگز یہ تو خود اندھی ہے؛ گر تیر الہام نہ ہو ۵۲ عسر ہو، کیسر ہو، تنگی ہو، کہ آسائش ہو کچھ بھی ہو؛ بند مگر دعوتِ اسلام نہ ہو ۵۷ عشق وہ ہے کہ جوتن من کو جلا کر رکھ دے در دفرقت وہ ہے؛ جس کا کوئی درمان نہ ہو عشق کا لطف ہی جاتا رہے؛ اے ابلہ طبیب! درد گر دل میں نہ ہو؛ دَرد بھی پنہان نہ ہو ۵۹ عشق کی راہ میں دیکھے گا وہی رُوئے فلاح جو کہ دیوانہ بھی ہو؛ عاقل و ہشیار بھی ہو عشق کہتا ہے کہ محمود! لیٹ جا اُٹھ کر رُعب کہتا ہے؛ پرے ہٹ ، بڑی لاچاری ہے عاقلو ! عقل پہ اپنی نہ ابھی نازاں ہو پہلے تم وہ نگر ہوش ربا دیکھو تو عاشقو ! دیکھ چکے عشق مجازی کے کمال اب مرے یار سے بھی دل کو لگا دیکھو تو عشق اک راز ہے؛ اور راز بھی اک پیارے کا مجھ سے یہ راز؛ صد افسوس! چھپایا نہ گیا علاج عاشق مضطر نہیں ہے کوئی دنیا میں اُسے ہوگی اگر راحت میٹر ؛ تو فنا ہو کر ۲۵ عشق کا دعوی ہے؛ تو عشق کے آثار دکھا دعوی باطل ہے وہ؛ جس دعویٰ پر بُرہان نہ ہو عشق بھی کھیل ہے ان کا ؛ کہ جو دل رکھتے ہیں ہو جو سو دا، تو کہاں ہو؟ کہ یہاں سر ہی نہیں علاج رنج وغم ہائے دل رنجور ہوتی ہے طبیعت کتنی ہی افسردہ ہو؛ مسرور ہوتی عشق ہے جلوہ فگن فطرت وحشی پہ مری دیکھ لینا کہ ابھی رام ہوئی جاتی ہے عاشق کے آنسوؤں کی ذرا آب دیکھ لیں ہیرے کہاں ہیں، لعل کہاں ہیں؛ گہر کہاں عشق و بے کاری؛ اکٹھے ہو نہیں سکتے کبھی عرصه سعی محبتاں تا ابد ممدود ہے عزیزه عزیزہ سب سے چھوٹی نیک فطرت بہت خاموش پائی طبیعت ہے علوم آسمانی اُن کو مل جائیں دلوں کی اُن کے کلیاں؛ خوب کھل جائیں ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۲۸ عشق ۶۹ 21 ۷۲ ہے