بیت بازی — Page 186
186 ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۹ ۴۰ عالم بے ثبات میں شب و روز آج کی جیت؛ کل کی بات بنے عرش سے فرش پر مایا اُتری رو پا ہوگئی ساری دھرتی مٹ گئی گلفت چھا گئی مستی وہ تھا میں تھا من مندِ رتھا عشق خدا مونہوں پروتے ، پھوٹ رہا تھا نور نظر سے آکھین سے ئے پیت کی بُر سے قابل دید ہر دیدہ ور تھا کی ورتھا عیاری و جلادی و سفا کی میں پکے تم قلب و ذہن دونوں کی ناپاکی میں پگے عمر بھر میں بھی تمہیں ڈھونڈتا بے سُود اگر عالم خواب میرا ملجا و ماویٰ ہوتا عجب مزا ہے جب اُردو کلاس ہوتی ہے تو چھوٹے لڑکے بھی بلیوں اچھل کے دیکھتے ہیں عروج اپنا مقدر ہے؛ اور ان کا زوال یہ وہ اُبال ہے؛ جس میں اہل کے دیکھتے ہیں کلام محمود عطا کر ان کو اپنے فضل سے صحت بھی اے مولیٰ ! ہمیشہ ان پہ برسا؛ ابر اپنے فضل و رحمت کا ۳۸ عدل و انصاف میں وہ نام کیا ہے پیدا آج ہر ملک میں جس کا بجا ہے ڈنکا علم کا نام و نشاں یاں سے مٹا جاتا تھا شوق پڑھنے کا دلوں میں سے اُٹھا جاتا تھا عاشق احمد و دلداده مولائے کریم حسرت و یاس سے مر جائیں یہ پشم پرنم عیسی تو تھا خلیفہ موسی ؛ او جاہلو! تم سے؛ بتاؤ کام ہے کیا اُس جوان کا عشق مولی دِل میں جب محمود ہوگا موجزن یاد کر اس دن کو تو ؛ پھر کیا سے کیا ہو جائے گا عزت بھی اُس کی دُوری میں؟ بے آبروئی ہے گوچہ میں اس کے خاک اُڑاتے ؛ تو خُوب تھا عشق میں اک گل نازُک کے ہوا ہوں مجنوں دھجیاں جامہ تن کی میں اُڑا لوں تو کہوں نه کرو؛ اہلِ وفا ہو جاؤ اہل شیطاں نہ بنو؛ اہل خُدا ہو جاؤ ۴۱ ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ شکنی عہد عبادت میں گئیں دن رات اپنے ہمارا سر ہو؟ تیرا آستاں ہو ۴۷ عطا کر جاه و عزت دو جہاں میں ملے عظمت زمین و آسماں کی ۴۸ ۴۹ عطا کر عمر و صحت ہم يارب ہمیں مت ڈال پیارے! امتحاں میں علیم کامل کا وہ مالک اور میں محروم علم وہ سراسر نور ہے؛ لیکن ہوں میں تاریک و تار عزت افزائی ہے میری؛ گر کوئی ارشاد ہو ہے میرا؛ جو پاؤں رُتبہ خدمت گزار