بیت بازی — Page 188
188 عشق کی آگ تیز کرنے کو منه چھپاتا کبھی دکھاتا تھا ؛ عاقل کا یہاں پر کام نہیں وہ لاکھوں بھی بے فائدہ ہیں مقصود مرا پورا ہو؛ اگر مل جائیں مجھے دیوانے دو عکس تیرا چاند میں گر دیکھ لوں؟ کیا عیب ہے اس طرح تو چاند سے؛ اے میری جاں! پردہ نہ کر ۷۳ ۷۵ عرفان کے رازوں ۷۶ تسکیم کی را ہوں LL و جاہل؛ جو آپ بھٹکتے پھرتے ہیں؛ غافل آئے ہیں مرے سمجھانے کو عمر گزرے گی میری ؛ کیا یونہی اُن کی یاد میں کیا نہ رکھیں گے قدم وہ اس دلِ ناشاد میں عطا و بخشش و انعام کی کوئی حد ہے جسے بھی دیتے ہیں؛ وہ بے شمار دیتے ہیں عقل پر کیا طالب دنیا کی ہیں پردے پڑے ہے عمارت پر فدا؛ منکر مگر معمار کا ۸۰ Al ۸۳ ۸۴ ۸۵ عطشت قُلُوبُ العَاشِقِينَ لِرَا حِكَ فَأَ دِركُو سِكِ وَاسْقِ مِن سُقِيَاكَ عرش بھی جس سے مُرتعش ہو جائے سوزش دل ہے اسلام وہ ترانہ بنا کھلتے ہیں سینے مجھے ۸۲ علامت کفر کی تنگی نفس مگر عشق و وفا کی راہ دکھایا کرے کوئی راز وصال یار بتایا کرے کوئی عشق کی سوزشیں بڑھا؛ جنگ کے شعلوں کو دبا پانی بھی سب طرف چھڑک ؛ آگ بھی تو لگائے جا عطائیں ان کی بھی بے انتہا تھیں مجھ پہ مگر مطالبوں کا مرے بھی؛ کوئی حساب نہ تھا ۸۶ عشق و وفا کا کام نہیں؛ نالہ و فغاں بھر آیا دل؛ تو چپکے سے آنسو بہا لیا ۸۷ عشق نے کر دیا خراب مجھے ورنہ کہتے تھے؛ لا جواب بھی اُن کا ہاتھ بھی اُن کے وہ کریں کام؛ دیں ثواب مجھے عظمی کو بھلایا ہے تو نے ، تو احمق ہے، ہشیار نہیں یہ تیری ساری کستانی، بے کار ہے؛ گر کر دار نہیں عشق صادق میں ترا رونا ہے اک آب حیات بے غرض رونا تیرا؛ اک بے پنہ سیلاب ہے عشق صنم سے؛ عشق خدا، غیر چیز ہے اس رہ کے جانتے ہیں نشیب و فراز ہم عاشقوں کا شوق قُربانی تو دیکھ خُون کی اِس رہ میں ارزانی تو دیکھ عرش سے کھینچ کے لے آئی خُدا کو؛ جو چیز تیری بروقت دوہائی تھی؛ ہے تیرا احسان ۸۸ ۸۹ ۹۱ ۹۲ ۹۳ غزم