بیت بازی

by Other Authors

Page 185 of 871

بیت بازی — Page 185

185 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ " 12 ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ اور باد بہار عزیزو! کچھ نہیں اس بات میں جاں اگر کچھ ہے؛ تو دکھلاؤ بمیداں عجب ناداں ہے وہ مغرور و گمراہ کہ اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ عزت و ذلت؛ یہ تیرے حکم پر موقوف ہے تیرے فرماں سے خزاں آتی ہے عقل پر پردے پڑے سو سو نشاں کو دیکھ کر نور سے ہو کر الگ چاہا کہ ہوویں اھل نار عاشقی کی ہے علامت گرید و دامان دشت کیا مبارک آنکھ جو تیرے لئے ہو اشکبار عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر خطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آبدار درٌ عَدَن علم و عمل نصیب ہو؛ عرفان ہو نصیب ذوق دعا حسن عبادت نصیب ہو عشق میں تحلیل روحیں چور زخموں سے بدن ساید شمشیر میں پیغام دینا یار کا علم و عرفاں تم کو بخشا؛ اور کنز بے بہا کلام رب اکبر یہ کتاب حق نُما صورت دکھاؤ! اس رخ انور کا واسطہ عیسی مسیح آؤ! پیمبر کا واسطہ عورت ہو نا تھی سخت خطا؛ تھے تجھ پر سارے جبر روا یہ جرم نہ بخشا جاتا تھا؛ تا مرگ سزائیں پاتی تھی عابد کو اپنے زہد و عبادت پہ ناز ہے اور عالموں کو علم کی دولت پہ ناز ہے علم و توفیق بلاغ دین؛ ہو ان کو عطاء قادیاں والوں کا ہو ناصر؛ خدائے قادیاں كلام طاهر عارف کو عرفان سکھانے ، متقیوں کو راہ دکھانے جس کے گیت زبور نے گائے ؛ وہ سردار منادی آیا اے غلام میسح الزماں ہاتھ اٹھا؛ نہیں اب دعا کے سوا موت بھی آگئی ہو، تو ٹل جائیگی عصر بیمار کا ہے مرض لا کوئی چاره روا عشاق تیرے جن کا قدم تھا قدم صدق جاں دے دی نبھاتے ہوئے پیمان وفا کے عجب مستی ہے یا دیار؛ کے بن کر برستی ہے سرائے دل میں ہر محبوب دل رندانہ آتا ہے عالم رنگ و بُو کے گل بوٹے خواب ٹھہرے توہمات بنے عالم حیرتی کے مندر میں کبھی بُبت مظہر مظهر صفات بنے ۲۷ ۲۸ ۲۹