بیت بازی

by Other Authors

Page 183 of 871

بیت بازی — Page 183

183 ظاہر ہوا وہ جلوہ؛ جب اُس سے جگہ پلٹی خود حُسنِ نظر اپنا سو چند نکھار آئی ظلمتیں دل کی؛ اسی نور سے ہوتیں کافور نور کلام محمود کتنا مدھر کتنا رُوپہلا ہوتا ظلمت و تاریکی و ضد و تعصب ؛ مٹ چکے آگئے ہیں اب خدا کے چہرہ دکھلانے کے دن ظہور مہدئی آخر زماں ہے سنبھل جاؤ! کہ وقت امتحاں ہے ظلم وستم و جور بڑھے جاتے ہیں حد سے ان لوگوں کو اب تُو ہی سنوارے؛ تو سنوارے پردے ظلمتیں آپ کو سجتی نہیں میرے پیارے! سب چاک کریں؛ چہرہ کو ننگا کر دیں ظلم کرتے ہو جو کہتے ہو شفق پھولی ہے تم نے عاشق کا ہے یہ خونِ تمنا دیکھا ظاہر میں سب ابرار ہیں باطن میں سب اشرار ہیں مصلح ہیں ، پر بد کار ہیں؛ ہیں ڈاکٹر، پر زار ہیں ظلمتیں کافور ہو جائیں گی؟ اک دن دیکھنا میں بھی اک نورانی چہرہ کے پرستاروں میں ہوں محفوظ رہو ظلمت رنج و غم وم و درد سے مہر انوار درخشندہ رہے؛ شام نہ ہو ظاہری دُکھ ہو؛ تو لاکھوں ہیں فدائی موجود دل کے کانٹوں کو مگر کون نکالے پیارے! ظَهَرَتْ هِدايةُ رَبِّنا بِقُدُومِه زَالَت ظَلامُ الدَّهْرِ عِندَ قُدُومِهَا ظلمتوں نے گھیر رکھا ہے مجھے؟ پر غم نہیں دُور اُفق میں جگمگاتا چہرہ مہتاب ہے ۲۱ "1 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۹ ۱۰