بیت بازی — Page 5
5 اب اسی گلشن میں لوگو! راحت و آرام ہے قت ہے جلد آؤ؛ اے آوارگان دشت خار ۱۲ اسمعوا صوت السماء جاء المسيح جاء المسيح نیز بشـــنـــو از زمیس؛ آمــد امــــام کــــامــگــــار ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ ۲۰ ۲۱ آسماں میرے لئے؛ تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے ؛ میرے لئے تاریک و تار آسماں پر دعوتِ حق کیلئے اک جوش ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار ہے آسمان بارد نشان الوقـت مـی گـوئـد زمـیـس این دو شاهد از پئے من نعرہ زن چوں بے قرار ابتداء سے تیرے ہی سائے میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار استقدر ظاہر ہوئے ہیں فضل حق سے معجزات دیکھنے سے جن کے شیطاں بھی ہوا ہے دلفگار آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار ایک عالم مرگیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اب میرے مولیٰ اس طرف دریا کی دھار اس پہ بھی میرے خدا نے یاد کر کے اپنا قول مربع عالم بنایا مجھ کو؛ اور دیں کامگار اے مرے یار یگانہ! اے مری جاں کی بس ہے تو میرے لئے ، مجھ کو نہیں تجھ بن بکار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار سے نہ بھاگو؛ راہِ ہدی یہی ہے اے سونے والو! جاگو، شمس الضحیٰ یہی اسلام چیز کیا ہے؛ خدا کیلئے فتا ترک رضائے خویش؛ پیئے مرضی خدا ۲۶ اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا؛ اسی نے ثریا بنا دیا دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا اک مربع خواص یہی قادیاں ہوا آؤ لوگو! کہ یہیں نور خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۷ اسلام ۲۹ آؤ عیسائیو! ۳۰ חתו ادھر آوا نور حق دیکھو، ہے راه حق پاؤ سے ہمارا پاک دل و سینہ ہوگیا وہ اپنے منہ کا آپ ہی آئینہ ہو گیا اس نے درخت دل کو معارف کا پھل دیا ہر سینہ شک سے دھو دیا؛ ہر دل بدل دیا اُس نور پر فدا ہوں؛ اُس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے، میں چیز کیا ہوں؛ بس فیصلہ یہی ہے ۳۲ اک نہ اک دن پیش ہوگا تو فنا کے سامنے چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے ۳۱ ۳۲