بیت بازی — Page 147
147 ۳۰۸ ۳۰۹ ۳۱۰ ۳۱۱ ۳۱۲ ۳۱۳ ۳۰۷ دل ہے شکار حرص و ہوا و ہوس ہوا پنجہ سے ان کے؛ اس کو چھڑانا ہی چاہیئے دل دوستاں کو نہ توڑیں گے ہرگز نہ ٹوٹے گا ہرگز یہ پلور ہم بگور سے دھرا ہم پہ بارِ شریعت؛ تو پھر کیوں فرشتوں ظاہر ہو مستور ہم دل میں بیٹھے؛ کہ سمائے میری آنکھوں میں تو میری تعظیم ہے اس میں؛ تیری تحقیر نہیں دل رُبا کیسا ہے؛ جو دل نہ لبھائے میرا سینے کے پار نہ ہو جائے؟ تو وہ تیر نہیں دُنیا والوں نے اُنھیں بے گھر کیا؟ بے در کیا پھر بھی ان کے قلب حُبّ خَلق سے معمور ہیں دُنیا والوں کی نظر میں ؟ پھر بھی ٹھہرے ہیں حقیر ہیں گنہ لازم؛ مگر سب نیکیاں برباد ہیں ۳۱۴ دجال کے بچھائے ہوئے جال؛ توڑ دو حاصل ہو تم کو ایسی ذہانت؛ خُدا کرے دید کی راہ بتائی تھی؟ ہے تیرا احساں اس کی تدبیر سجھائی تھی؛ ہے تیرا احساں ۳۲ دانه سجه پراگندہ ہیں چاروں جانب ہاتھ پر میرے؛ اُٹھیں آپ اکٹھا کر دیں دُعائیں شُعلہ جوالا بن کے اُتریں گی جلا کے رکھ دیں گے اعداء کو؛ ہم فُغاں سے آج دوستی اور وفاداری ہے عیش کے وقت آڑے وقتوں میں بھلا کون وفا کرتا درد تو اور ہی کرتا ہے تقاضا دل سے پر وہ اظہارِ محبت سے دبا کرتا ہے دُنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہوا ہے گند ہر ہر قدم پہ؛ ہوش سے دامن سنبھال تو دل دے کے مُشتِ خاک کو ؛ دلدار ہو گئے اپنی عطا کے آپ خریدار ہو گئے ۳۱۵ ۳۱۷ ۳۱۸ ۳۱۹ ۳۲۰ { { { E E £ ۳۲۳ نما ہیں؛ یہ ہے جیں راتیں دن کی تاریکیاں ہیں کرتی دُور دل مت چھوڑو پیارو اپنا تمر لہروں میں اُٹھاتے جاؤ ۳۲۴ دُنیا میں اس کے عشق کا چرچا ہے چار سُو تحفہ کے طور پر دل یک نام لائے ہیں ۳۲۵ دانہ تسبیح اور اشکوں کا مطلب ہے اگر آب و دانہ کیلئے؛ پارسائی چھوڑ دوں کلام حضرت خليفة المسيح الثالث ٣٢٦ دُنیا کی کھیل کود میں؛ ناصر پڑے ہو کیوں یاد خُدا میں دل جو لگاتے، تو خُوب تھا دنیا کے کام بے شک کرتا رہوں گا میں بھی لیکن میں جان و دل سے اس یار کا رہوں گا ۳۲۷