بیت بازی

by Other Authors

Page 142 of 871

بیت بازی — Page 142

142 ۱۹۷ ۱۹۸ ۱۹۹ ۲۰۰ ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۴ ۲۰۵ ٢٠ ۲۰۷ ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ دل میں آتا ہے؛ کہ دل بیچ دیں دِلدار کے ہاتھ اور پھر جان کو ہم ہدیۂ جاناں کر دیں دل چاہتا ہے؛ طور کا وہ لالہ زار ہو اور آسماں جلوہ گناں؛ میرا یار ہو دُنیا کے عیش؛ اس پہ سرائر ہیں پھر حرام پہلو میں جس کے؛ ایک دل بے قرار ہو درد دل سوز جگر ؛ اشک رواں تھے میرے دوست یار سے مل کے کوئی بھی تو رہا یاد نہیں دل پھٹا جاتا ہے؛ مثل ماہی بے آب کیوں ہو رہا ہوں کس کے پیچھے اس قدر بے تاب کیوں دم عیسی سے بھی بڑھ کر ہو دُعاؤں میں اثر یک بیضا بنو؛ موسیٰ کا عصا ہو جاؤ درد ہے دل میں مرے یا خار ہے کیا ہے آخر اس کو کیا آزار ہے دلوں کی ظلمتوں کو دور کر دیں ہماری بات میں ایسی ہو تاثیر دَشتِ غُربت میں ہوں تنہا رہ گیا با حال زار چھوڑ کر مجھ کو کہاں کو چل دیئے اغیار و یار دونوں ہاتھوں سے پکڑ لو؛ دامن تقویٰ کو تم ایک ساعت میں کرا دیتا ہے یہ دیدار یار درد میں لذت ملے گی؛ دُکھ میں پاؤ گے سُرور بے قراری بھی اگر ہوگی؛ تو آئے گا قرار دوڑے جاتے ہیں بامید تمنا سوئے باب شاید آجائے نظر؛ رُوئے دل آرا بے نقاب دیتے تھے تم جس کی خبر ؛ بندھتی تھی جس سے یاں کمر مٹ جائے گا سب شور وشر موت آئے گی شیطان پر دل ہی نہ رہا ہو جس کے بس میں وہ مبر دولہا نہ رہا ہو شرمسار کیوں ہو جب دلہن کا بیچاری کا پھر سنگار کیوں ہو احمد کا تو ہی ہے بانی پس تجھی دین ہماری ہے فریاد دشمن حق ہیں گو بہت ؛ لیکن کام دے گی انہیں نہ کچھ تعداد ہو نہ محتان محمد ޏ ۲۱۴ ۲۱۶ دشمنی تمہیں جو معاند ہیں؛ تمھیں اُن سے کوئی کام نہ ہو ہو ۲۱۵ درد کا میرے تو؛ اے جان! فقط تم ہو علاج چارہ کار بھی ہو؟ محترم اسرار بھی دل میں اک درد ہے پر کس سے کہوں میں جا کر کوئی دُنیا میں میرا مونس و غم خوار بھی ہو دل کے رنگوں نے ہی محجوب کیا ہے اس سے شاہد اس بات پر اک پرده زنگاری پہ ہے دشمن دین ترے حملے تو سب میں نے سہے اب ذرا ہوش سے رہیو! کہ مری باری ہے ۲۱۷ ۲۱۸