بیت بازی — Page 141
141 ۱۷۵ ۱۷۶ 122 دشمن دین درندوں دین درندوں سے ہیں بڑھ کر خونخوار چھوڑ یو مت، میرے مولیٰ! کبھی تنہا ہم کو دیکھ کر حالت دیں؛ خُونِ جگر کھاتے ہیں مر ہی جائیں؟ مر ہی جائیں؛ جو نہ ہو تیرا سہارا ہم ۱۷۷ دل میں آآ کے تیری یاد نے؛ اے رپ و دور بارہا پہروں تلگ؛ خون رلایا ہم کو دکھلا کے ہم کو تازہ نشانات و معجزات چہرہ خُدائے عزوجل کا دکھا دیا دل و جگر کے پر خچے اڑے ہوئے ہیں یاں اگر چہ دیکھنے میں اپنا حال زار نہیں دورنگی سے ہمیں ہے سخت نفرت جو دل میں ہے؛ کہیں سے بھی عیاں ہے خُدا بھی ہم پہ KA ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۳ ۱۸۴ ۱۸۵ TAY 112 ۱۸۸ دیا ہے رہنما؛ بڑھ کر خضر قم کیسا مہرباں ہے دل آفت زدہ کا دیکھ کر حال میرا زخم جگر بھی ہنس رہا ہے عیسی سے مُردے چی اُٹھے ہیں جو اندھے تھے، انہیں اب سُوجھتا ہے دشمن جانی جو ہوگا؛ آشنا ہو جائے گا یوم بھی ہوگا اگر ؛ گھر میں ہما ہو جائے گا دیکھ لینا ایک دن؛ خواہش ہر آئے گی میری میرا ہر ذرہ؛ محمد پر فدا ہو جائے گا دیر کرتے ہیں جو نیکی میں؟ ہے کیا ان کا خیال موت کی ساعت میں بھی؛ کچھ التوا ہو جائے گا دشمن اسلام جب دیکھیں گے اک قہری نشاں جاں نکل جائے گی ان کی؛ دم فنا ہو جائے گا دوستی کا دم جو بھرتے تھے؛ وہ سب دشمن ہوئے اب کسی پر تیرے دن ؛ پڑتی نہیں میری نظر دلبر سے رابطہ جو بڑھاتے تو خُوب تھا یوں عُمر رائیگاں نہ گنواتے تو خُوب تھا دُنیائے دُوں کو آگ لگاتے؛ تو خُوب تھا گوچہ میں اس کے دھونی رماتے؛ تو خُوب تھا دیکھ کر اس کو؛ ہیں دُنیا کے حسیں دیکھ لئے کیا بتاؤں؛ کہ تیرے چہرہ میں ہے کیا دیکھا دل اور جگر میں گھاؤ ہوئے جاتے ہیں؟ کہ جب چاروں طرف فساد پڑے دیکھتا ہوں میں دل میرا ٹکڑے ٹکڑے ہوا ہے؛ خُدا گواہ غم دور کرنے کیلئے؛ گو ہنس رہا ہوں میں دکھلاؤ پھر صحابہ سا جوش و خروش تم دنیا پر اپنی قوت بازو عیاں کرو ۹۵ دل پھر مُخالفان محمد کے توڑ پھر دشمنانِ دین کو تم بے زباں کرو دل نہیں ہے؛ یہ تو لعل دینِ افعی ہے دل کو اس زُلفِ سیہ سے جو چھڑائوں ؛ تو کہوں ۱۸۹ دلبر ١٩٠ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ ۱۹۶ رو