بیت بازی — Page 140
140 کلام محمود ۱۵۵ دیکھا؛ تو ہراک جام میں تھا زہر ہلاہل ہم آئے تھے اس دُنیا کو ئے خانہ سمجھ کر ۱۵۶ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۰ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ دھیرے دھیرے ہوتا ہے گسب گمال بوبکر کو بننا پڑتا ہے بلال دین و دنیا میں بڑا ہو مرتبہ و صحت بھی اسے کر تو عطا کرتا ہوں میں بھی؛ کہ اپنی خاص رحمت سے؛ ޏ وہ اس شادی میں برکت دے دعا ہاتھ اُٹھا کر حق تعالیٰ دست دل سے ان کے یہ نکلتی تھیں دعائیں دن رات یا الہی ! تیرے فضلوں کی ہو ہم پر برسات دیکھ کر اپنی یہ حالت اسے جب رحم آیا دیکھو انگلینڈ سے اس قوم کو یاں لے آیا دین اسلام بس اب ان کی سمجھ میں آجائے بات یہ کچھ بھی نہیں رحم اگر وہ فرمائے ۱۶۲ دوستو! ہرگز نہیں ؛ یہ ناچ اور گانے کے دن مشرق و مغرب میں ہیں یہ دیں کے پھیلانے کے دن کوتاہ کو پھر درازی بخش خاکساروں کو سرفرازی بخش دجال کی بڑائی کو خاک میں ملادوں قوت مجھے عطاء کر؛ سلطان مجھ کو دے دے دل میں ہوسوز ؛ تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو تم میں اسلام کا ہو مغز؛ فقط نام نہ ہو دل کعبہ کو چلا مرا بت خانہ چھوڑ کر زمزم کی ہے تلاش اسے؛ میخانہ چھوڑ کر اگر آیا زمانہ ضعف کا تب تو صیح وقت کے آنے کے دن دیکھ کر تیرے نشانات کو؛ اے مہدی وقت! آج انگشت بدندان ہے؛ سارا عالم دین اسلام کی ہر بات کو جھٹلا ئیں غوی احمد پاک کے حق میں بھی کریں سب وشتم وجل کا نام و نشاں؛ دہر سے مٹ جائے گا خان اسلام میں آجائے گا؟ سارا عالم ظل وم و کم اگر ہو کسی کو تو آئے وہ میداں میں؛ ہراک کو للکارتا ہے ۱۷۲ دوستو! اب بھی کرو تو بہ؛ اگر کچھ عقل ہے ورنہ خود سمجھائے گا وہ یار؛ سمجھانے کے دن ۷۳ در دودُ کھ سے آگئی تھی تنگ، اے محمود! قوم اب مگر جاتے رہے ہیں؛ رنج و غم کھانے کے دن دردِ الفت میں مزہ آتا ہے ایسا ہم کو کہ شفایابی کی خواہش نہیں اصلا ہم کو ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ 121 ۱۷۴ دین احمد پر