بیت بازی — Page 106
106 ۲۳۲ ۲۳۳ ۲۳۴ ۲۳۵ £ ۲۳۶ ۲۳۷ ۲۳۸ ۲۳۹ ۲۴۰ ۲۴۲ جو اُن سے لڑنے آئے؛ وہ دنیا سے اُٹھ گئے باقی کوئی بچا بھی؛ تو ہے اب وہ نیم جاں جو سنتا ہے؛ پکڑ لیتا ہے دل کو تڑپ ایسی ہے؛ میری داستاں میں جو دل میں آئے ، سو کہہ لو کہ اس میں بھی ہے لطف خُدا کے علم میں گر ہم؛ ذلیل و خوار نہیں جگا رہے ہیں مسیحا کبھی سے دنیا کو مگر غضب ہے؛ کہ ہوتی وہ ہوشیار نہیں جسے کہتی ہے دنیا؛ سنگ پارس مسیحا کا وہ سنگ آستاں ہے جو کہ شمع روئے دلبر پر فدا ہو جائے گا خاک بھی ہوگا؟ تو پھر خاک شفا ہو جائے گا جو کوئی اُس یار کے در کا گدا ہو جائے گا مُلک رُوحانی کا وہ فرماں روا ہو جائے گا جس کو تم کہتے ہو یارو! یہ فنا ہو جائے گا ایک دن سارے جہاں کا پیشوا ہوجائے گا جو کوئی تقویٰ کرے گا؛ پیشوا ہو جائے گا قبلہ رخ ہوتے ہوئے قبلہ نما ہو جائے گا ۲۴۱ جس کا مسلک؛ زُھد وذکر واتقا ہو جائے گا پنجہ شیطاں سے وہ بالکل رہا ہو جائے گا جو کوئی؛ دریائے فکر دیں میں ہوگا غوطہ زن میل اُتر جائے گی اس کی؛ دل صفا ہو جائے گا جب کہ ہر شے ملک ہے تیری مرے مولیٰ ! تو پھر جس سے تو جاتا رہے؛ بتلا کہ وہ جائے کدھر جب کبھی دیکھی ہیں؛ یہ تیری غزالی آنکھیں میں نے دنیا میں ہی؛ فردوس کا نقشہ دیکھا جان جائے گی؛ پر چھوٹے گا نہ دامن تیرا پیٹے تلسی کے؛ میں دوچار کہا گوں تو کہوں جو ہے رقیبوں سے تم کو اُلفت؛ مجھے ۲۴۳ ۲۴۴ ۲۴۵ ۲۴۶ ۲۴۷ ۲۴۸ تو دل میں پوشیدہ رکھو اس کو بتا بتا ہو دیوانہ کیوں بناتے ؛ کر جتا جتا کر جو کوئی ہے دن بلائے آیا ، تو اس کو تم کیوں نکالتے ہو ہیں ایسے لاکھوں کہ بزم میں ہو، انھیں بٹھاتے بلا بلا کر جدائی ہم میں ہے کس نے ڈالی؟ خضر تمھیں اس کا کچھ پتا ہے؟ وہ کون تھا، جو کہ لے گیا دل ہے؛ مجھ سے آنکھیں ملا میلا کر ۲۴۹ جو مارنا ہے تو تیر مژگاں سے چھید ڈالو دل و جگر کو نہ مجھ کو تڑپاؤ اب زیادہ ؛ تم آئے دن یوں ستاستا کر جو کوچه عشق کی خبر ہو؟ اهل ظاہر جو مجھ سے کہتے ہیں؟ تو کریں ایسی بے حیائی کچھ تو اے بے حیا! حیا کر ۲۵۰