بیت بازی

by Other Authors

Page 105 of 871

بیت بازی — Page 105

105 ۲۱۱ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۶ ۲۱۷ ۲۱۸ جہاں جیتک کہ دم میں دم ہے؛ اسی دین پر رہوں اسلام پر ہی آئے؛ جب آئے قضا مجھے ۲ جس نے محنت کی شب و روز ؛ اُس کے ساتھ اور پڑھایا اس کو قرآں؛ ہاتھوں ہاتھ جان بھی دینی پڑے گر ؛ تو نہ ہو اس سے دریغ کسی حالت میں نہ چھوٹی ہو ضمائت تیری جس کی سچائی کا ہے یہ اک نشاں جانتا ہے بات سارا ۲۵ جس نے آتے ہی وہ نقشہ ہی بدل ڈالا ہے جس جگہ خار تھا؛ اب واں پہ گل لالہ ہے جو کہ قادر ہے؛ جسے کچھ بھی نہیں ہے پروا ٹھیک کر دے اُسے دم میں؛ کہ ہو جو کچھ بگڑا جس لیے یہ نام پایا تھا؟ نہیں باقی وہ کام اب تو اپنے حال پر ہیں؛ خود ہی شرمانے کے دن جلد کر توبہ کہ پچھتانا بھی پھر ہوگا فضول ہاتھ سے جاتے رہیں گے؛ جبکہ پچھتانے کے دن جان ہے سارے جہاں کی؛ وہ شہر والا جاہ مَنعِ جُود و سخا ہے؛ وہ میرا ایم گرم جب کیا تجھ پہ کوئی حملہ؛ تو کھائی ہے شکست مار وہ اُن کو پڑی ہے؛ کہ نہیں باقی جس کا جی چاہے؛ مقابل پہ ترے آدیکھے دیکھنا چاہتا ہے کوئی اگر ؛ مُلک عدم جس طرف دیکھئے، دشمن ہی نظر آتے ہیں کوئی مونس نہیں دنیا میں؟ نہ کوئی ہمدم جو کہ ہیں تابع شیطاں؛ نہیں اُن کی پروا ایک ہی حملے میں مٹ جائے گا سب اُن کا بھرم جب کہ وہ زلزلہ جس کا کہ ہوا ہے وعدہ ڈال دے گا تیرے اعداء کے گھروں میں مائم جس کو کیا ہے خدا نے مامور اس سے بھلا تم کو کیا گلہ گناہوں میں چھوٹا بڑا ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۷ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ جدھر دیکھو؛ ابر گنہ چھا رہا ہے دم ہے مبتلا ہے جہاں سے ایمان اُٹھ گیا تھا فریب و مکاری کا تھا پر چا فساد نے تھا جمایا ڈیرا؛ وہ نقشہ اُس نے اُلٹ دیا ہے چرچا وہ تریڑا ؟ خلقت کو پھر اکھیڑا کہ اپنی جاں سے ہوئی خفا ہے جمایا طاعوں نے ایسا ڈیرا دیا ہے ستون اس کا نہ پھر اُکھیڑا ہے۔رہ گئے تھوڑے سے ہیں اب گالیاں کھانے کے دن جاہ و حشمت کا زمانہ آنے کو ہے عنقریہ جس نے خُدا کے پاس سے آنا تھا؛ آچکا لو آکے بوسہ؛ سنگ در آستان کا جوشِ اُلفت میں یہ لکھی ہے غزل؛ اے محمود کچھ ستائش کی تمنا نہیں اصلا ہم کو