بیت بازی

by Other Authors

Page 89 of 871

بیت بازی — Page 89

۳۰۱ 89 99 ہندوستان میں روتا میں پاکستان میں گڑھتا ہے؛ ہوں ل فقط تم انسانوں کے چیلے ہو؟ پر سر میرا ول بھی زار؛ تیرا ہی حال زار نہیں میں عالم ہوں میں فاضل ہوں؟ ٣٠٣ ۳۰۷ ۳۰۹ ۳۱۰ ۳۱۱ ۳۱۲ میں اس کے در کا ریزہ ہوں مرے دستار نہیں تو اس کے پیارے ہاتھوں کو اپنی گردن کا طوق بنا کیا تو نے گلے میں ڈالا ہے ڈوالتا رہے یہ ڈکار نہیں ۳۰۴ تن یه کمخواب؛ پیٹ میں حلوان جاں اُن کی وبال ہیں ایسے ۳۰۵ توڑنے کو بھی دل نہیں کرتا محبت کے جال ہیں ایسے تم نظر آتے ہو ذرہ میں؛ غائب بھی ہو تم سب خطاؤں سے بھی ہو تم پاک تائب بھی ہو تم تم ہی آتا ہو میرے؟ تم ہی میرے مالک ہو میرے ساعات غم و رنج میں نائب بھی ہو تم ۳۰۸ تو میرے دل میں؛ دل تجھ میں قصدی و منالی! آ بھی جا تب کہیں جا کر ہوا حاصل وصالِ ذاتِ پاک مدتوں میں نے پرستش کی تری تصویر کی توبہ کی بیل چڑھنے لگی ہے منڈھے پہ آج اے درد! میری آنکھ کا فوارہ چھوڑ دے تم نے سو بار مجھے نیچا دکھانا چاہا پر مرے دل کی مُروت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں تم کو مجھ سے ہے عداوت ؛ تو مجھے تم سے ہے پیار میری یہ کیسی محبت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں تو بہ بھی ہوگئی مقبول؛ بُھوری بھی ہوئی پر میرے دل کی ندامت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں تم میں، ہم میں؛ مُناسبت کیسی؟ تم مفاصل ہو؟ اور جوڑ ہیں ہم تدبیر ایک پردہ ہے؛ تقدیر اصل ہے ہوں گے بس اس کے فضل سے ہی کامگار ہم تقویٰ کا جھنڈا جھکتا ہے ؛ پر کفر کی گڈی چڑھتی ہے اس دنیا میں اب نیکوں کا؛ کوئی تو اللہ والی ہے تو مشرق کی بھی کہتا ہے ، تو مغرب کی بھی کہتا ہے مگر رازِ درونِ خانہ؛ پوشیدہ ہی رہتا ہے ؛ ۱۸ تو آزادی کا ٹھپہ کیوں غلامی پر لگاتا ہے غلاف فوصويت لے کے قرآں پر چڑھاتا ہے مُتَقَل تیرے دل کو بھائی ہے؛ دولت پرائی تو اک بار مجلس میں مجھ کو بلا تو کروں گا نہ تجھ سے کبھی بے وفائی ۳۱۳ ۳۱۴ ۳۱۵ ۳۱۶ ۳۱۷ ۳۱۹ ۳۲۰ تیرے باپ دادوں کے مخزن