بیت بازی

by Other Authors

Page 88 of 871

بیت بازی — Page 88

88 تجھ میں؛ جمال یار کی پاتا ہوں میں جھلگ اُٹھتی ہے جس کو دیکھ کے؛ دل میں مرے گسگ تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطرات محبت ٹپکیں گے بادل آفات و مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو تم یاد آرہی ہو؛ دل کو ستا رہی ہو میں کیا کروں، کہ ہردم؛ تم دُور جا رہی ہو تجھے اس جہان کے آئنہ میں جمالِ یار کی جستجو مجھے سو جہان دکھائی دیتا ہے؛ چشم آئنہ ساز میں اضطراب ہے یہ تیرے جام کو میرے خون سے ہی؟ یہ زیر و بم؛ رنگ ہے دلفريب مرے سوز ޏ تیرے ساز میں ۲۸۲ ۲۸۳ ۲۸۴ ۲۸۵ ۲۸۶ ۲۸۹ ملا ۲۸۷ تھا غرق گنہ؛ لیکن پڑتے ہی بنگہ اُن کی اشک آنکھوں میں اور ہاتھوں میں عرش کے پائے تھے ۲۸۸ تو بارگاہ حسن ہے؛ میں ہوں گدائے حسن مانگوں گا بار بار میں تو بار بار دے تنگ آ گیا ہوں نفس کے ہاتھوں سے میری جاں! جلد آ؛ اور آکے اس میرے دشمن کو مار دے تیری رہ میں ؛ موت سے بڑھ کر نہیں عزت کوئی دار ہے گزرتا؛ راہ تیرے دار کا ۲۹۱ تعریف کے قابل ہیں؛ یا رب ! تیرے دیوانے آباد ہوئے جن سے؛ دنیا کے ہیں ویرانے تجھ سے مل کر نہ غیر کو دیکھوں غیر کا مجھ کو محل ۲۹۰ پر سے ۲۹۳ ۲۹۲ تجھ تیری صنعت حرف آتا بنا توڑ ہے دے؛ پر مجھے بُرا نه بنا ۲۹۴ ۲۹۵ ۲۹۶ ۲۹۷ تیری محبت ہے میرے دل میں؛ زبان میری تیرے تصرف میں؛ مرے دہن میں میری محبت ہے تیرے دل میں بات تیری تیری دنیا میں فرزانے بہت سے پائے جاتے ہیں مجھے تو بخش دے؛ اپنی محبت کا بخوں ساقی تجھے معلوم ہے؛ جو کچھ میرے دل کی تمنا ہے میرا ہر ذرہ، گویا ہے؛ زباں سے کیا کہوں ساقی تیرے در کی گدائی سے بڑا ہے کون سا درجہ مجھے گر بادشاہت بھی ملے ؛ تو میں نہ گوں ساقی تو مری جاں کی غذا ہے؛ میرے دل کی راحت پیٹ بھرتا ہی نہیں؛ تیری ملاقاتوں سے ۲۹۹ تھا یادگار تیری؛ کیوں ملا دیا اُس کو میرا یہ دردِ محبت کوئی عذاب نہ تھا ٣٠٠ تو آئے تو ہم تجھ کو سر آنکھوں پر بٹھا ئیں جاں نذر میں دیں تجھ کو تجھے دل میں بسائیں ؛ ۲۹۸ ۳۰۰