بیت بازی — Page 90
90 90 ۳۲۱ ۳۲۲ ۳۲۳ ۳۲۴ ۳۲۷ ۳۲۸ ۳۲۹ ۳۳۱ ۳۳۲ تعمیر کعبہ کیلئے کوئی جگہ تو ہو تیرے بندے؛ اے خُدا! تیرے بندے؛ اے خدا! پہلے صنم کدہ کو گرانا ہی چاہئیے دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں تجھ میں اُن میں غیریت کوئی نظر آتی نہیں ہیں اگر وہ مال تیرا؛ تو بھی ان کا ہے صلہ ۳۲۵ تیری خاطر یہہ رہے ہیں؛ ہر طرح کی نشتیں پر ادا کرتے نہیں؛ شیطاں کو ہر گز باج وہ ۳۲۶ توحید کی ہو لب پہ شہادت؛ خُدا کرے ایمان کی ہو دل میں حلاوت؛ خُدا کرے تبلیغ دین و نشر ہدایت کے کام پر مائل رہے تمھاری طبیعت؛ خُدا کرے تم ہو خُدا کے ساتھ ؛ خُدا ہو تمھارے ساتھ ہوں تم سے ایسے وقت میں رُخصت؛ خُدا کرے تم سے ملنے کی خُدا کو بھی ہے خواہش ؛ یہ خبر مصطفے! تو نے سُنائی تھی؛ ہے تیرا احساں ۳۳۰ تو نے انسان کو انسان بنایا پھر سے ورنہ شیطاں کی بن آئی تھی؛ ہے تیرا احساں تجھے غیر کے غم میں مرنے کی عادت مہارت ہے غیروں کو جور و جفا میں تعلق کوئی بھی رکھنا نہ تم ، بغض و عداوت سے کہ مومن کو ترقی ملتی ہے؛ مہر و محبت سے ۳۳۳ تری یہ عاجزی بالا ہے؛ سب دنیا کی عزت سے تجھے کیا کام ہے دُنیا کی رفعت اور شوکت سے تیرا دشمن بڑائی چاہتا ہے؟ گر شرارت سے تو اس کا توڑ دے منہ تو ؛ محبت سے، مُروت سے ۳۳۵ تیرے در کے ہوا دیکھوں نہ دروازہ کسی گھر کا کبھی مت کھینچو ہاتھ اپنا تو میری کفالت سے ا تیرے دشمن تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جائیں گے نہ ڈر اُن سے، کھڑا ہو سامنے تو اُن کے؛ جرأت سے تم نے بھی آگ بجھائی نہ کبھی آکے میری میری آنکھوں سے مرا دل؛ یہ گلہ کرتا ہے ۳۳۸ تیری تدبیر جب تقدیر سے لڑتی ہے؛ اے ناداں! تو اک نقصان کے بدلے ترے ہوتے ہیں سونقصاں تعلق چھوڑ دیں گے؟ باپ ماں بھائی برادر سب جو اب تک یار جانی تھا؛ وہ گل ناآشنا ہوگا تبھی تو حید کا بھی لطف آئے گا ہمیں صاحب! زمیں پر بھی خُدا ہوگا؟ فلک پر بھی خُدا ہوگا تمھارے گھٹتے ہوئے ہیں سائے؛ ہماری قسمت میں بڑھتے ہوئے ہیں سائے تمھاری قسمت میں ۳۳۴ ۳۳۶ ۳۳۷ ۳۳۹ ۳۴۰ ۳۴۱ ہمارے وہ لکھا ہے؛ لکھا ہے