بیت بازی

by Other Authors

Page 834 of 871

بیت بازی — Page 834

834 ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۴ میری بخشش تو وابستہ ہے تیری چشم پوشی سے الہی! رحم کر مجھ پر؛ مرا جاتا ہوں خفت سے مجھے تو اے خُدا! دنیا میں ہی تو بخش دے جنت تسلی پا نہیں سکتا قیامت کی زیارت سے میں نے پوچھا جو ، ہو کیوں چپ ؛ تو تنک کر بولے ہم بھرے بیٹھے ہیں؛ جانے بھی دے، کیا کرتا ہے میں تو بیداری میں رکھتا ہوں سنبھالے دل کو جب میں سو جاؤں؛ تو یہ آہ وبکا کرتا ہے میرے مسیح! تیرا تقدس کمال ہے بے دین تھے جو آج دیندار ہوگئے مولا کی مہربانی تو دیکھو! کہ کس طرح جو تابع فرنگ تھے؛ سرکار ہو گئے مسلم بے چارہ قید عیسوی میں ہے پھنسا یہ خدائی کفر کی ہے؛ یا خدائی آپ کی ۲۲۷ مجھے تو اس سے غرض ہے؛ کہ راضی ہو دلبر یہ کام قیس کرے؛ یا کوئی ایاز کرے ہے فانوس ہوں میں؛ اور خُدا اس کا نور ہے ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۸ ۲۳۰ ۲۳۱ میرا تو کچھ نہیں مغرب کا ہے؛ اُسی کا ظہور ہے ۲۲۹ میں تو بندہ عشق ہوں مجھے تو صاحب! دلبر کی محبت میں مزا آتا میرے جان و دل کے مالک امری جاں نکل رہی ہے تیری یاد چٹکیوں میں میرے دل کو مل رہی ہے ہے بچھونا؛ تو مغرب کا اوڑھنا اسلام کی تو کوئی بھی اب تو نہیں رہی منجملہ تیرے فضل وکرم کے ہے یہ بھی ایک عیسی مسیح سا ہے دیا رہنما مجھے موسی کے ساتھ تیری رہیں لن ترانیاں زنہار میں نہ مانوں گا؛ چہرہ دکھا مجھے محمد میرے تن میں؛ مثل جاں ہے یہ ہے مشہور؛ جاں ہے، تو جہاں ہے ۲۳۲ ۲۳۳ ۲۳۴