بیت بازی

by Other Authors

Page 773 of 871

بیت بازی — Page 773

773 چنگے رہیں ہمیشہ؛ کریو نہ ان کو مندے یہ روز کر مبارک سبــــحــــان مــــن یــرانـــی چھو کے دامن تیرا؛ ہر دام سے ملتی ہے نجات لاجرم؛ دَر پہ تیرے، سر کو جھکایا ہم نے در عدن چار دن ہنس کھیل کر مشہور رخصت ہو گئے کھل گئے گلہائے مسرت داغ حسرت دے گئے کلام طاهر ہے چشم حزیں میں آ تو بسے ہو مرے حبیب کیوں پھر بھی میری دید کا مسکن اُداس چھین لے ان سے زمانے کی عناں مالک وقت بنے پھرتے ہیں کم اوقات زمانے والے چشم گردُوں نے کبھی پھر نہیں دیکھے وہ لوگ آئے پہلے بھی تو تھے ؟ آئے، نہ جانے والے چھت اُڑ گئی سایہ نہ رہا کتنے سروں پر ارمانوں کے دن جاتے رہے پیٹھ دکھا کے اب؛ اور کالے دھن کی فراوانی سے؛ چلتا وہاں دھندے مجذوم ہوئے کاروبار یہ سکہ نوکر شاہی کا چشم حزیں کے پار اُدھر؛ درد نہاں کی جھیل پر کھلتے ہیں کیوں کسے خبر حسرتوں کے کنول پڑے چاند نے پی ہوئی تھی رات ؛ ڈھل رہی تھی کائنات نور کی مے اتر رہی تھی ؛ عرش سے جیسے تکل پڑے چھٹ جائیں گے اک روز مظالم کے اندھیرے لہرائیں گے ہر آنکھ میں گلرنگ سویرے کلام محمود چکھیں گے مزا عذاب کا جب جانیں گے کہ ہاں! کوئی خدا ہے چیزیں ہزاروں ڈاک میں بھیجو، تم آج کل نقصان اس میں کوئی نہ کوئی زبان ہے چھوٹوں بڑوں کی چین سے ہوتی ہے یاں بئر نے مال کا خطر ہے؛ نہ نقصان جان ہے چکھائے گی تمھیں غیرت خدا کی جو کچھ اس بد زبانی کا مزا ہے چھوڑتے ہیں غیر سے مل کر تجھے یا الہی! اس میں کیا اسرار ہے چاک کر دیجئے، ہیں بیچ میں جتنے یہ حجاب میری منظور اگر آپ کو دلداری ہے چادر فضل و عنا: و عنایت میں چھپالے پیارے! مجھ گنہ گار کو اپنا ہی بنالے پیارے! Λ 11 ۱۲ ۱۴ ۱۵ 17 12 ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳