بیت بازی — Page 772
772 ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ جو راحت ہو، تو منہ راحت رساں سے موڑ لیتا ہے مصیبت ہو؛ تو اس کے در پہ سر تک پھوڑ لیتا ہے جن کو بیماری لگی ہے؛ وہ ہیں غافل سو رہے پر یہ ان کی فکر میں ہیں؛ سخت بے گل ہو رہے جن کو کبھی تھی بُرا دنیا؟ وہی تیرے ہوئے شیر کی مانند اُٹھے ہیں؛ وہ اب پھرے ہوئے چھوں نے پائی ہے اللہ کی کوئی شریعت بھی انھیں تو ٹھیک کر سکتا نہیں؛ پر حق وحکمت سے ۱۳۲ جس ذات سے پالا پڑتا ہے وہ دل کو دیکھنے والی ہے جان بھی دینی پڑے گر ؛ تو نہ ہو اس سے دریغ کسی حالت میں نہ جھوٹی ہو ضمائت تیری ۱۳۴ جیتک کہ دم میں دم ہے؛ اسی دین پر رہوں اسلام پر ہی آئے؛ جب آئے قضا مجھے ۱۳۳ i 'چ' سے 'ی' '' سے شروع ہو کر 'ی' پر ختم ہونے والے اشعار ) تعداد گل اشعار در ثمين 30 7 1 8 14 در عدن کلام طاهر کلام محمود == iii iv در ثمین که چھوڑ و غرور و کبر ؛ کہ تقویٰ اسی میں ہے ہو جاؤ خاک؛ مرضی مولیٰ اسی میں ہے چاہیئے نفرت بدی سے؛ اور نیکی سے پیار ایک دن جانا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے چاہیئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقشِ دوئی سرجھکا بس مالک ارض و سما کے سامنے چھوڑنی ہوگی تجھے دنیائے فانی ایک دن ہر کوئی مجبور ہے؛ حکم خدا کے سامنے چھوڑتے ہیں دیں کو؛ اور دنیا سے کرتے ہیں پیار سو کریں وعظ ونصیحت؛ کون پچھتانے کو ہے