بیت بازی — Page 774
774 چھانا کئے سب جہاں کو اُن کی خاطر جب دیکھا تو دیکھا اُن کو سوتے سوتے چہرہ مرے حبیب کا ہے مہر نیم روز اس آفتاب کو نہ چھپایا کرے کوئی چھوڑ کر چل دئے میدان کو؛ دوماتوں سے مرد بھی چھوڑتے ہیں دل کبھی ؛ ان باتوں سے چاند چمکا ہے؛ گال ہیں ایسے تاج ہو جیسے بال ہیں ایسے چھوٹے کبھی نہ جامِ سخاوت؛ خدا کرے ٹوٹے کبھی نہ پائے صداقت؛ خُدا کرے چلتے کاموں میں مدد دینے کو سب حاضر ہیں جب بگڑ جائیں؛ فقط ایک خُدا کرتا ہے چھوٹوں کو حق نے کر کے دکھایا ہے سر بلند جو تھے ذلیل؛ قوم کے سردار ہوگئے '' سے 'ی' ('ح' سے شروع ہو کر 'ی' پرختم ہونے والے اشعار ) تعداد کل اشعار 24 6 1 4 13 در ثمين در عدن کلام طاهر کلام محمود در ثمین !! iii iv حاجتیں پوری کریں گے؛ کیا تیری عاجز بشر کر بیاں سب حاجتیں؛ حاجت روا کے سامنے حرف وفا نہ چھوڑوں؛ اس عہد کو نہ توڑوں اس دلبر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے حق سے جو حکم آئے ؛ سب اس نے کر دکھائے جو راز تھے بتائے ؛ نعم العطاء یہی ہے حمق آگیا ہے؛ سر میں وہ فطنت نہیں رہی گسل آگیا ہے؛ دل میں جلادت نہیں رہی حق کی طرف بلایا؛ مل کر خدا ملایا یہ روز کر مبارک سبحـان مــن یــرانــی ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰