بیت بازی — Page 516
516 وہ کتاب پاک و برتر جس کا فرقاں نام ہے وہ یہی دیتی ہے طالب کو بشارت بار بار وہ دکھاتا ہے؛ کہ دیں میں کچھ نہیں اکراہ و جبر دیں تو خود کھینچے ہے دل؛ مثل بُتِ سیمیں عذار وہ خدا؛ جس نے نشانوں سے مجھے تمغہ دیا اب بھی وہ تائید فرقاں کر رہا ہے بار بار وہ لگادے آگ میرے دل میں ملت کیلئے شعلے پہنچیں جس کے ہردم آسماں تک بیشمار وہ جو کہلاتے تھے صوفی ، کہیں میں سب سے بڑھ گئے کیا یہی عادت تھی شیخ غزنوی کی یادگار وجی حق کی بات ہے؛ ہو کر رہے گی بے خطا کچھ دنوں کر صبر؛ ہوکر متقی اور بُردبار وجی حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ لیک ممکن ہے؛ کہ ہو کچھ اور ہی قسموں کی مار وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار وہ خدا؛ حلم وتفضل میں نہیں رکھتا نظیر کیوں پھرے جاتے ہواُس کے حکم سے دیوانہ وار محبت کی کماں کہ جس کو حسبِ تقدیر ہے؛ وہ عاشق ނ آلگا تیر وہ خزائن ؛ جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں؛ اگر کوئی ملے اُمیدوار ودر عدن والی امصار علوم دو جہاں کے اے یوسف کنعان؛ خدا حافظ و ناصر کلام طاهر وہ جن سے لڈ بیر ہوئے ان تخیہ مشق ستم مجبوروں، محروموں کی باتیں کر جو اپنے وطن میں غیر ہوئے وہ کئے رکھتا تھا پہلے سے ہی سب کچھ تیار کئی کھانوں کی لگا رکھتا تھا میزوں پہ قطار کلام محمود پیدا وہ ہم میں قوتِ قدسی ہو جسے چھوویں؛ وہی ہو جائے اکسیر وہ جذبہ ہم میں پیدا ہو الہی جو دشمن ہیں؛ کریں اُن کی بھی تسخیر وہی ! بولیں جو دل میں ہو ہمارے خلاف فعل ہو اپنی نہ تقریر وہ مری آنکھوں کی ٹھنڈک ، میرے دل کا نُور ہے ہے فدا اُس شُعلہ رُو پر میری جاں پروانہ وار ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 17 1 ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹