بیت بازی — Page 28
28 ۴۹۹ آجاتے ہو کرتے ہو ملاقات شب و روز سلسلة ربط بہم صبح و مسا ہے کھلا ہے ۵۰۰ اے تنگی زنداں کے ستائے ہوئے مہماں وا چشم ہے، دل باز؛ در سینہ ۵۰۱ امر ہوئی ہے وہ تجھ سے محمد عربی ندائے عشق جو قول بلی سے اُٹھی ہے ۵۰۲ ۵۰۳ ۵۰۴ ۵۰۶ ۵۰۷ ۵۰۸ ۵۰۹ ۵۱۰ اپنے دیس میں اپنی بستی میں ؛ اک اپنا بھی تو گھر تھا جیسی سند رتھی وہ بستی، ویسا وہ گھر بھی سُندر تھا اُس کی دھرتی تھی آکاشی ؛ اس کی پر جاتھی پر کاشی جس کی صدیاں تھیں متلاشی ، گلی گلی کا وہ منظر تھا اُس کے سُروں کا چر چا جا جادیس بدیس میں ڈنکا با جا اُس بستی کا پیتیم راجہ کرشن کنہیا مرلی دھر تھا آشاؤں کی اس بستی میں میں نے بھی فیض اُس کا پایا مجھ پر بھی تھا اُس کا چھایا جس کا میں ادنیٰ چاکر تھا کا اتنے پیار سے کس نے دی تھی میرے دل کے کواڑ پہ دستک رات گئے میرے گھر کون آیا؛ اُٹھ کر دیکھا تو ایشر تھا آخر دم تک تجھ کو پکارا؛ آس نہ ٹوٹی دل نہ ہارا مصلح عالم باپ ہمارا؛ پیکر صبر ورضا رہبر تھا آ کے دیکھو تو سہی بزم جہاں میں گل تک جو تمہارے ہوا کرتے تھے؛ تمہارے ہیں وہی اُسی کا فیض تھا؛ ورنہ میری دعا کیا تھی کہے سے اُس کے دکھاتا تھا میرا غم اعجاز اسی کی ہوگئیں تم اس کے امر ہی سے تمہیں امر بنانے کا دکھلا گئی عدم اعجاز اک شعلہ سا لرزاں ہے؛ سر گور تمنا اک غم جئے جاتا ہے؛ مزاروں کے سہارے ۵۱۲ آ بیٹھ میرے پاس؛ مرا دست تھمی تھام مت چھوڑ کے جا درد کے ماروں کے سہارے اب اسے ڈھونڈ نے جائے تو کہاں اردو کلاس اسے اب دیکھے گی دل ہی میں نہاں اردو کلاس اب کبھی ہم سے ملو گے بھی ؛ تو بس خوابوں میں یہ کنول اب نہ کھلیں گے کہیں تالابوں میں اے کہ تو تحفہ درد و ہم و غم لایا ہے دیر کے بعد بڑی دور سے آنے والے! ابراھیم وقت کا سفیر؛ تھا جسے تسلط آگ پر وہ غلام اُس کے در کا تھا؛ جس کی آگ تھی غلام در اُن کی سرمدی قبور سے؛ آج بھی یہی ندا اُٹھے کاش تیری مٹی سے مدام؛ جو اٹھے وہ پارسا اُٹھے اب پتا کر عمر ہوش آئی تو یہ عقدہ کھلا عشق ہی پاگل تھا ورنہ میں تو سودائی نہ تھا اس سے کہنے لگی کہ کیوں ابا آپ اتنے اداس بیٹھے ہیں سب کو غمگین کر دیا ہے جو ؛ آپ کے آس پاس بیٹھے ہیں ۵۱۱ ۵۱۳ ۵۱۴ ۵۱۵ ۵۱۶ ۵۱۷ ۵۱۸ ۵۱۹