بیت بازی

by Other Authors

Page 29 of 871

بیت بازی — Page 29

۵۲۱ ۵۲۰ 29 29 اپنے دل میں بسا کے میرا غم؛ میرے دکھ کو لگا کے سینے سے؟ متلک میرا درد پالیں گے کیا میرا ہر ستم اُٹھا لیں گے آپ کی بیٹیاں ہیں اور بھی جو؛ اپنے ماں باپ سے بھی چھپ چھپ کر؛ اپنوں غیروں کے ظلم سہتی ہیں راز دل آپ ہی سے کہتی ہیں ۵۲۲ ۵۲۳ ۵۲۴ ۵۲۶ آئے وہ دن کہ ہم جن کی چاہت میں گنتے تھے دن اپنی پھر وہ چہرے ہو یدا ہوئے؛ جن کی یادیں قیامت تھیں قلب تپاں کیلئے تسکین جاں کیلئے آپ نے زندگی گزارنی ہے؛ آپ سے مانگتے ہیں مرہم دل؛ سب کے ہاتھوں سے زخم کھائے ہوئے ساری دنیا کے بوجھ اُٹھائے ہوئے اُن کو سمجھائیں ان سے بھی زیادہ؛ اپنوں کے ہاتھ مرنے والوں پر ؛ لوگ دنیا میں روز دنیا میں ہیں ستم دیدہ ہوتے ہیں سوگ ۵۲۵ او محو سیر دلکشی گل نظر اُٹھا گلشن میں حالِ زار و نزار ہزار دیکھ اُٹھی بس اِن سے ایک نوائے جگر خراش ٹوٹے پڑے ہیں مربط ہستی کے تار دیکھ ۵۲۷ اتنا تو یاد ہے؛ کہ جہاں تھے اداس تھے یہ کس کو ہوش ہے؛ کہ کہاں تھے، کہاں رہے آنکھوں نے راز سوزِ دروں کہہ دیا مگر بزمِ طرب میں ہونٹ تبسم کناں رہے اپنی تو عمر روتے کئی ہے؛ پر اس سے کیا جا میری جان! تیرا خدا پاسباں رہے ۵۳۰ احساس نامرادی دل شعلہ سا اُٹھا ہم جاں بلب پڑے رہے آتش بجاں رہے ۵۲۸ ۵۲۹ ۵۳۱ اک کرشمہ فسوں کا پُر اسرار ۵۳۲ آشنا ہو کے اجنبی تھا وہ شخص حیرتوں کا تھا ساتھ کر ره جدا جدا سا تھا ۵۳۴ ۵۳۳ آخر سا کھلے تو دیکھے چھٹ بھی گئے اندھیارے من مندر میں سورج بیٹھا؟ اس کا دیپ جلائے اس کے پاؤں دھو کے پیئیں ساگر کی موجیں ، جب وہ جھینپا جھینپا، اس میں اُترے؛ شرمائے شرمائے آ۔میری موجوں سے لپٹ جا؛ ساگرتان اُڑائے یہ بھی تو سنسار کی ریت ہے؛ جو کھوئے ، سو پائے اس تصور سے؛ کہ تم چھوڑ کے جاتے تو سدا دل محبت کی اک اک بوند کو ترسا ہوتا ۵۳۵ ۵۳۶