بیت بازی — Page 27
27 222 ۴۷۹ ۴۸۰ ۴۸۲ ۴۸۳ ۴۸۴ ۴۸۵ ۴۸۶ ۴۸۷ ۸۹ ۴۹۰ ۴۹۱ ۴۹۲ ۴۹۳ امشب نہ تو نے چہرہ دکھایا تو کیا عجب صبح کا منہ نہ دیکھے دل ناصبور شب اس لمحہ تیرے رشک سے شبنم تھی آب آب مٹی میں مل رہا تھا پگھل کر غرورِ شب امی کی پہنچتی رہیں طوبی کو دعائیں ابا کی ابا کی رہو جان؛ خدا حافظ و ناصر اے قوم! ترا حافظ ہو خدا؛ ٹالے سر سے ہر ایک بلا تاحد نظر سیلِ عصیاں ؛ ہر سمت کنارے ڈوب گئے اُس رحمت عالم ابر کرم کے یہ کیسے متوالے ہیں وہ آگ بجھانے آیا تھا؛ یہ آگ لگانے والے ہیں اک روز تمہارے سینوں پر بھی وقت چلائے گا آرا ٹوٹیں گے مان تکبر کے ، بکھریں گے بدن پارہ پارہ ان آنسوؤں کو چرنوں پر گرنے کا اذن ہو آنکھوں میں جو رہے ہیں مچل؛ آپ کیلئے آ جائیے! کہ سکھیاں یہ مل مل کے گائیں گیت موسم گئے ہیں کتنے بدل؛ آپ کیلئے اب حسرتیں بسی ہیں وہاں؛ آرزوؤں نے خوابوں میں جو بنائے محل؛ آپ کیلئے اُحد اور مکہ اور طائف؛ انہی راہوں پر ملتے ہیں انہی پر شعب یو طالب بے آب و دانہ آتا ہے پہ اُسے عشق و وفا کے جرم میں سنگسار کرتے ہیں تو ہر پتھر دم تسبیح دانہ دانہ آتا ہے اُسے رُک رُک کے بھی تسکین جسم و جاں نہیں ملتی ہمیں مثل صبا چلتے ہوئے ستانا آتا ہے آنکھ میں پھانس کی طرح ہجر کی شب اٹک گئی اے مرے آفتاب آ۔رات ملے تو کل پڑے رزق؛ شیطاں نے تجھے صحراؤں میں؛ شمنِ دیں ترا فقط تکذیب کے تھوہر کا پھل ہے ہے اک باغ سبز دکھایا اُن کو شکوہ ہے؛ کہ ہجر میں کیوں تڑپایا ساری رات جن کی خاطر رات لگا دی ؛ چین نہ پایا ساری رات ۴۹۴ اُن سے شکوہ کیسا؛ جن کی یاد نے بیٹھ کے پہلو میں ساری رات آنکھوں میں کائی ؛ درد بٹایا ساری رات ۴۹۵ ۴۹۶ اُن سے شکایت کس منہ ہو؟ جن کے ہوں احسان بہت جن کی کومل یاد نے دُکھتا دِل سہلا یا ساری رات اوروں کے دکھ درد میں تو کیوں ناحق جان گنواتا ہے تجھ کو کیا کوئی بے شک تڑپے ماں کا جایا ساری رات اب کس کو بھیج بلائیں گے کیسے سینے سے لگائیں گے مر کر بھی کوئی لوٹا ہے؟ سائے بھی کبھی ہاتھ آئے ہیں ۴۹۸ اب آپ کی باری ہے تڑپیں اب آپ ہمیں آواز میں دیں سوتے میں ہنسیں روتے جائیں کہ خواب ملن کے آئے ہیں ۴۹۷