بیت بازی — Page 99
99 60 ۹۸ ۹۹ 1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ ۹۷ جس کو تیری دھن لگی، آخر وہ تجھ کو جاملا جس کو بے چینی ہے یہ؛ وہ پا گیا آخر قرار جیفئہ دنیا پر یکسر گر گئے دنیا کے لوگ زندگی کیا خاک ان کی؛ جو کہ ہیں مردارخوار جس کو دیکھو، آجکل وہ شوخیوں میں طاق ہے آہ! رحلت کر گئے وہ سب جو تھے تقویٰ شعار جس طرف دیکھو، یہی دنیا ہی مقصد ہوگئی ہر طرف اس کیلئے رغبت دلائیں بار بار جس طرح تو دُور ہے لوگوں سے میں بھی دُور ہوں ہے نہیں کوئی بھی؛ جو ہو میرے دل کا رازدار جن کو ہے انکار اس سے سخت ناداں ہیں وہ لوگ آدمی کیونکر کہیں؛ جب ان میں ہے حمق حمار جاودانی زندگی ہے موت کے اندر نہاں گلشن دلبر کی رہ ہے وادئی غربت کے خار جس نے نفس دوں کو ہمت کر کے زیر پا کیا چیز کیا ہیں اس کے آگے؛ رستم و اسفندیار جبکہ کہتے ہیں؛ کہ کاذب پھولتے پھلتے نہیں پھر مجھے کہتے ہیں کاذب؛ دیکھ کر میرے ثمار جاہلوں میں اس قدر کیوں بدگمانی بڑھ گئی کچھ برے آئے ہیں دن؛ یا پڑگئی لعنت کی مار جبکہ ہے امکان کذب و گنج روی اخبار میں پھر حماقت ہے؛ کہ رکھیں سب انہی پر انحصار جب کہ ہم نے نورحق دیکھا ہے اپنی آنکھ سے جبکہ خود وحی خدا نے دی خبر یہ بار بار جھانکتے تھے نور کو وہ روزن دیوار سے لیک جب دَر کھل گئے؛ پھر ہوگئے شتر شعار جن میں آیا ہے مسیح وقت؛ وہ منکر ہوئے مرگئے تھے اس تمنا میں خواص ہر دیار ۱۰۴ ۱۰۵ 1+4 ۱۰۷ ۱۰۸ 1+9 11۔川 ۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا دل گھٹا جاتا ہے یارب! سخت ہے یہ کارزار جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے میں غریب؛ اور ہے مقابل پر حریف نامدار جس قدر نقد تعارف تھا؛ وہ کھو بیٹھے تمام آہ! یہ کیا دل میں گذرا؛ ہوں میں اس سے دلفگار جس طرف دیکھیں، وہیں اک دہریت کا جوش ہے دیں سے ٹھٹھا اور نمازوں روزوں سے رکھتے ہیں عار ۱۱۵ جس کی تعلیم ؛ یہ خیانت ہے ایسے دیں پر ہزار لعنت ہے جاه و دولت سے یہ زہریلی ہوا پیدا ہوئی موجب نخوت ہوئی رفعت؛ کہ تھی اک زہر مار دوسرا کیونکر اس کو کو پہچانے ٹلتی نہیں وہ بات؛ خدائی یہی تو ہے ١١٦ 112 ۱۱۸ جس نے پیدا کیا؟ وہی جانے جس بات کو کہے؛ کہ کروں گا یہ میں ضرور