بیت بازی — Page 98
98 ۷۵ LL 21 ۸۰ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵۔جن کو نشانِ حضرت باری ہوا نصیب وہ اس جناب پاک سے ہردم ہوئے قریب جب تک خدائے زندہ کی تم کو خبر نہیں بے قید اور دلیر ہو؛ کچھ دل میں ڈر نہیں جو مرگئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس رہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات جو لوگ بدگمانی کو شیوہ بناتے ہیں تقویٰ کی راہ سے وہ بہت دُور جاتے ہیں و جو کچھ میری مراد تھی؟ سب کچھ دکھا دیا میں اک غریب تھا؟ مجھے بے انتہا دیا جو مفتری ہے؛ اس سے یہ کیوں اتحاد ہے کس کو نظیر ایسی عنایت کی یاد ہے جب دشمن اس کو بیچ میں کوشش سے لاتے ہیں کوشش بھی اس قدر؛ کہ وہ بس مر ہی جاتے ہیں جب آپ لوگ اس سے ملے تھے بدیں خیال تا آپ کی مدد مدد سے اسے سہل ہو جدال جھوٹا تھا، مفتری تھا، تبھی یہ ملی سزا آخر میری مدد کیلئے خود اٹھا خدا جتنے گواہ تھے؛ وہ تھے سب میرے بر خلاف اک مولوی بھی تھا؛ جو یہی مارتا تھا لاف جو مفتری تھا؛ اس کو تو آزاد کر دیا سب کام اپنی قوم کا برباد کر دیا جس کی مدد کے واسطے لوگوں میں جوش تھا جس کا ہر ایک دشمن حق عیب پوش تھا جس کا رفیق ہو گیا ہر ظالم و غوی جس کی مدد کے واسطے آئے تھے مولوی جو متقی ہے؛ اس کا خدا خود نصیر انجام فاسقوں کا؛ عذاب سعیر ہے جڑ ہے ہر ایک خیر و سعادت کی اتفا جس کی یہ جڑ رہی ہے؛ عمل اس کا سب رہا جس دل میں رچ گیا ہے محبت سے اس کا نام وہ خود نشاں ہے؛ نیز نشاں سارے اس کے کام جس کو ہم نے قطرہ صافی تھا سمجھا اور تھی غور سے دیکھا؛ تو کیڑے اس میں بھی پائے ہزار جو ہمارا تھا؛ وہ اب دلبر کا سارا ہوگیا آج ہم دلبر کے؛ اور دلبر ہمارا ہوگیا جہل کی تاریکیاں اور سوءظن کی تند باد جب اکٹھے ہوں ، تو پھر ایماں اُڑے، جیسے غبار جی چرانا راستی سے؛ کیا یہ دیں کا کام ہے کیا یہی ہے زہد و تقویٰ؛ کیا یہی راہِ خیار جان و دل سے ہم نثار ملت اسلام ہیں لیک دیں وہ رہ نہیں؛ جس پر چلیں اہل نقار جن پہ ہے تیری عنایت؛ وہ بدی سے دُور ہیں رہ میں حق کی قوتیں ان کی چلیں بن کر قطار ΛΥ AL ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ہے