بدرگاہ ذیشانؐ — Page 108
108 ہزاروں آبلے پائے سفر میں مسلسل قافلہ اک چل رہا ہے جدھر دیکھوں میری آنکھوں کے آگے انہی نورانیوں کا سلسلہ ہے یہ کیسے شعر تم لکھنے لگے ہو عبید اللہ تمہیں کیا ہوگیا ہے فیض چنگوی وہ نور اولیں آیا وہ نور آخریں آیا مبارک ہو جہاں والو وہ تاج مرسلیں آیا نبی کامل ، بشر کامل ، کمال شفقت و احساں خدا کے نور میں ڈوبا ہوا ماہ مبیں آیا نبی امی لقب لیکن معلم ساری قوموں کا به این خلق مجسم حاملِ دین متیں آیا مقدس، ارفع و اعلیٰ نہیں جس کی نظیر ایسا وہ قرآن میں لیکر شہر دنیا و دیں آیا خدا اک نور مطلق ہے محمد مظہر مطلق نہ اُس جیسا حسیں کوئی نہ اس جیسا حسیں آیا