بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 107 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 107

107 مجسم ہو گئے سب خواب میرے مجھے میرا خزانہ مل گیا ہے حقیقت ایک ہے لذت میں لیکن حکایت سلسلہ در سلسلہ ہے یونہی حیراں نہیں ہیں آنکھ والے کہیں اک آئینہ رکھا ہوا ہے وصال یار سے پہلے محبت خود اپنی ذات کا اک راستہ ہے سلامت آئینے میں ایک چہرہ شکستہ ہو تو کتنے دیکھتا ہے چلو اب فیصلہ چھوڑیں اس پر ہمارے درمیاں جو تیسرا ہے رکھو سجدے میں سر اور بھول جاؤ کہ وقت عصر ہے اور کربلا ہے کسی بچے کی آہیں اُٹھ رہی ہیں غباراک آسماں تک پھیلتا ہے اندھیرے میں عجب اک روشنی ہے کوئی خیمہ دیا سا جل رہا ہے 1