بدرگاہ ذیشانؐ — Page 120
120 سنت ابراہیم اور دینِ حنیف بھی وہی پکنے کو آگئے یہاں کیسے بتانِ آذری الفضل ۱۰ اگست ۱۹۹۰ء وہ نسیم سیفی حسینوں کے حسین آئے کریموں کے کریم آئے جہاں کی رہبری کو حاملِ خُلقِ عظیم آئے فقیری جن کے استغناء سے تھی رشک شہنشاہی شہ لولاک بن کر صورت در یتیم آئے ہ آئے بزم میں شمع ازل کی روشنی لے کر کلام پاک لائے، بن کے صدر شک کلیم آئے میں وابستہ ہوں اک الفقر فخری لکھنے والے سے میری رہ میں الہی اب نہ زر آئے نہ سیم آئے غبارِ کارواں بھی ہے دلیل عظمت منزل کٹھن منزل کو طے کرنے مسافر بھی عظیم آئے بہارِ جانفزا آجائے ایماں کے گلستاں میں اگر ان کی گلی سے گھوم کر بارنیم آئے (نور فطرت)