بدرگاہ ذیشانؐ — Page 119
- 119 عبدالمنان ناہید تجھ کو ازل سے ہی ملی دونوں جہاں میں برتری تیرا ظہور جاوداں تیرا غیاب حاضری تیرا وجود ابتدا تیرا وجود انتہاء تیرا قدم تھا اولیں منزلِ شوق آخری تجھ سے نمود اولیں تجھ سے بہار آخریں تیرے شجر کی شاخ شاخ آج بھی ہے ہری بھری تیری حکائتیں کوئی قصہ ماضی نہیں آج بھی تیرا دور ہے آج بھی تیری داوری تیری درایت آج بھی فکر و عمل کی روشنی تیری روایت آج بھی عزم و یقیں کی رہبری فقرو شہی کے مسئلے حل ہوئے تیرے نطق سے گنگ یہاں سکندری چپ ہے یہاں قلندری تیرے نقوش پا ہیں یا منزل شوق کے نشاں سالک راہ کو بھی دیں گرد رہ پیمبری شان شہی بلند ہے فقر بھی ارجمند ہے رتبہ میں تو بلندتر ہے تیرے در کی چاکری فکر و نظر کے شعبدے کیسا یہ گل کھلا گئے ہے میری سجدہ گاہ میں سجدہ دلیل کافری