بدرگاہ ذیشانؐ — Page 106
106 ایک شجر ہے جس کی شاخیں پھیلتی جاتی ہیں کسی شجر میں ہم نے ایسی بات نہیں دیکھی اک دریائے رحمت ہے جو بہتا جاتا ہے یہ شان برکات کسی کے ساتھ نہیں دیکھی شاہوں کی تاریخ بھی ہم نے دیکھی ہے لیکن اُس کے دَر کے گداؤں والی بات نہیں دیکھی اُس کے نام پہ ماریں کھانا اب اعزاز ہمارا اور کسی کی یہ عزت اوقات نہیں دیکھی صد یونکی اس دھوپ چھاؤں میں کوئی ہمیں بتلائے پوری ہوتی کون سی اُسکی بات نہیں دیکھی اہل زمیں نے کون سا ہم پر ظلم نہیں ڈھایا کونسی نصرت ہم نے اُسکے ہات نہیں دیکھی کمال آدمی کی انتہا ہے وہ آئندہ میں بھی سب سے بڑا ہے کوئی رفتار ہو گی روشنی کی مگر وہ اس سے بھی آگے گیا ہے جہاں بیٹھے صدائے غیب آئی سایہ بھی اُسی دیوار کا ہے