بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 105 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 105

105 اسی دھن میں یاد آگیا وہ زمانہ کہ ہر سو جہالت کے بادل تھے طاری دیو مالا کے چکر میں بے کل عرب بن چکے تھے بتوں کے پجاری ہرسو فضا میں تھے جنگوں کے بادل سکوں سے تھے محروم ترک اور تاری نہ ماں محترم تھی نہ بیٹی پیاری ادب تھا بڑوں کا نہ کچھ پاسداری کھلو نہ تھی اک صنف نازک جہاں میں یہ صید زبوں اور دنیا شکاری ہر اک سو تظلم کا سکہ تھا جاری بھلا کون سنتا وہاں آہ و زاری یہ بگڑے ہوئے کام جس نے سنوارے وہی ہیں محمد خدا کے دلارے عبید اللہ میم ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھی لیکن ہم نے مولا جیسی ذات نہیں دیکھی اُس کی شانِ عجیب کا منظر دیکھنے والا ہے اک ایسا خورشید کہ جسنے رات نہیں دیکھی بستر پر موجود رہے اور سیر ہفت افلاک ایسی کسی پر رحمت کی برسات نہیں دیکھی اُس کی آل وہی جو اُس کے نقش قدم پر جائے صرف ذات کی ہم نے آلِ سادات نہیں دیکھی