بدرسوم و بدعات — Page 28
41 40 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی بیان کرتے ہیں کہ:۔ایک دفعہ میں نے تولد فرزند کے عقیقہ کے متعلق سوال کیا۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا لڑکے کے عقیقہ کے لئے دو بکرے قربان کرنے چاہئیں میں نے عرض کی کہ ایک بکرا بھی جائز ہے ؟ حضور نے جواب نہ دیا۔میرے دوبارہ سوال پر ہنس کر فرمایا کہ اس سے بہتر ہے کہ عقیقہ نہ ہی کیا جاوے۔ایک بکرے کے جواز کا فتویٰ نہ دیا۔میری غرض یہ تھی کہ بعض کم حیثیت والے ایک بکرا قربانی کر کے بھی عقیقہ کر سکیں۔“ (سیرۃ المہدی جلد دوم صفحہ: 155 جدید ایڈیشن روایت نمبر : 1216) سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیقہ کی نسبت سوال ہوا کہ کس دن کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا:۔- ساتویں دن۔اگر نہ ہو سکے تو پھر جب خدا توفیق دے۔ایک روایت میں ہے آنحضرت ﷺ نے اپنا عقیقہ چالیس سال کی عمر میں کیا تھا۔ایسی روایات کو نیک ظن سے دیکھنا چاہئے جب تک قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے خلاف نہ ہوں۔“ ( بدر 13 فروری1908 صفحہ 10 ملفوظات جلد پنجم صفحہ 442) ناک کان چھدوانا اور بودی رکھنا بعض لوگ بچوں کے ناک کان چھدواتے اور بالی بلاک پہناتے یا پاؤں میں گھنگروں ڈالتے اور سر پر چوٹی سی رکھ لیتے ہیں یہ سب غیر اسلامی رسوم ہیں جو غیر قوموں سےمسلمانوں میں آگئی ہیں۔منت کے طور پر سر پر جو بودی رکھتے ہیں اس کے بارے میں استفسار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ”نا جائز ہے ایسا نہیں چاہیئے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 169 ) سالگرہ پیدائش کے بعد سب سے زیادہ منائی جانے والی رسم سالگرہ ہے جس میں مغربیت کے زیر اثر بہت سے خاندان ہزاروں روپیہ برباد کر دیتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع سے ایک بارسالگرہ کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”مجھے بتائیں کہ کیا آپ کسی ایسے نبی کو جانتے ہیں جس نے اپنی سالگرہ منائی ہو کیا خدا کے کسی نبی ،اس کے نائبین یا مقربین نے کبھی اپنی سالگرہ منائی؟ ان میں سے یقینا کسی نے بھی نہیں۔ان کی پیدائش ہماری پیدائش سے زیادہ اہم ہے یا ہماری پیدائش ان کی پیدائش سے مجھے بتا ئیں؟ کیا آپ کی پیدائش خدا کے نبیوں کی پیدائش سے زیادہ اہم ہے۔ہرگز نہیں اگر انبیاء نے اپنی سالگرہ نہیں منائی تو آپ اپنی غیر اہم سالگرہ کیوں منائیں۔“ ( فولڈر ” سالگرہ کی تقریبات از نظارت اصلاح وارشاد ) سالگرہ لغو کے زمرہ میں آتی ہے سالگرہ قرآن کریم کے کسی حکم کی رو سے حرام تو نہیں جس پر اللہ تعالیٰ سزادے یا اس کی لعنت نازل ہو بلکہ یہ لغو کے زمرہ میں آتی ہے یہ قرآن کریم کا عمومی بیان ہے کہ مومن بے فائدہ چیزوں کے پیچھے نہیں پڑتے اور وہ بے معنی مشاغل میں شریک نہیں ہوتے۔مذہب کی مستند تاریخ کے مطابق خدا کے کسی نبی نے کبھی اپنی سالگرہ نہیں منائی۔کسی نبی کے صحابیوں نے اپنے نبی کی سالگرہ نہیں منائی آنحضرت ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ نے آپ کی سالگرہ نہیں منائی آپ کے چاروں خلفاء، صحابہ کی ساری نسل اور بعد ازاں تابعین اور تبع تابعین نے بھی کبھی آپ کی سالگرہ نہیں منائی یہی وجہ ہے کہ حضرت مصلح موعود سالگرہ منانے کے سخت مخالف تھے اور آپ کے دور میں جماعت میں کوئی سالگرہ کی تقریب نہیں منا تا تھا اور جب اس کی خلاف ورزی آپ کے علم میں آتی تو آپ اس پر شدید ناراضگی کا ( فولڈر سالگرہ کی تقریبات از نظارت اصلاح وارشاد ) اظہار فرماتے۔“ کو