بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 27 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 27

39 38 گود بھرائی پیدائش سے متعلقہ رسوم اور دینی تعلیمات جہاں تک رسومات کے بیان کا تعلق ہے یہ پیدائش سے پہلے ہی شروع کر دی جاتی ہیں مثلاً ایک رسم ہے گود بھرائی بچہ پیدا ہونے میں ابھی بہت وقت ہے تو یہ رسم شروع کر دی جاتی ہے جس پہ اکثر گھرانوں میں بے شمار روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔گانا بجانا کپڑوں کے جوڑے مٹھائیاں اور بے جا اسراف آخر کس لئے ؟ ابھی بچہ پیدا نہیں ہوا اور اس سے پہلے یہ فضول رسم اور اسراف سراسر اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے جس کا شریعت اور دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔بچوں کی پیدائش پر ہیجڑوں کے ناچ گانے کرانا، تعویز دھاگے باندھنا ،سر پرلٹ یا بودی رکھنا ، درباروں پر لے جانا اور بچوں کو ان سے منسوب کرنا۔یہ سب بدعتیں ہیں اور شرک کی راہیں ہیں۔آنحضرت علیہ کی سنت سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بچے کی پیدائش پر اس کے کان میں اذان دی جائے اور سر کے بال کٹوائے جائیں ، اچھا نام رکھا جائے اور اگر توفیق ہو تو عقیقہ کروایا جائے۔کان میں اذان دینا احادیث میں آیا ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ لا أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِي يَوْمَ وُلِدَ فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى وَ أَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى۔(شعب الايمان البيهقي 390/6 حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ جس دن حضرت حسن بن علی کی پیدائش ہوئی اس دن آنحضرت ﷺ نے ان کے دائیں کان میں اذان دی اور بائیں کان میں اقامت کہی۔بال کٹوانا اور نام رکھنا آنحضرت مہ نے بچے کی پیدائش کے ساتویں دن اس کے بال کٹوانے ، نام رکھنے اور عقیقہ کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔حضرت ابو درداء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا قیامت کے دن تمہیں تمہارے ناموں اور تمہارے باپ دادوں کے ناموں کے ذریعہ بلایا جائے گا۔اس لئے اچھے اچھے نام رکھا کرو۔(ابوداود کتاب الادب باب في تغيير الاسماء مشكواة باب الاسامي صفحه 408) (ترمذی کتاب الاضاحي باب من العقيقة) حضرت ابو وہب جشمی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انبیاء علیہ السلام کے ناموں جیسے اپنے بچوں کے نام رکھو اور عبداللہ اور عبدالرحمن نام اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں اور حارث اور ہمام بھی اچھے اور سچائی کے قریب نام ہیں لیکن حرب اور مرہ ( ان کے معنی لڑائی اور تلفی ہونے کی وجہ سے ) برے نام ہیں۔عقیقہ کرنا ( ابوداؤد کتاب الادب باب تغير الاسماء ) اگر کوئی شخص عقیقہ کرنا چاہتا ہو تو اس کے لئے آنحضور کا ارشاد ہے کہ جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ چاہے کہ اپنے بچے کی طرف سے عقیقہ کرے تو وہ بیٹے کی طرف سے دو بکریاں اور بیٹی کی طرف سے ایک بکری قربان کرے۔“ (ابو داؤد كتاب الضحايا باب في العقيقة