بدرسوم و بدعات — Page 29
43 42 رسم بسم الله حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شخص کے بذریعہ تحریر یہ لکھنے پر کہ ہمارے ہاں رسم ہے کہ جب بچہ کو بسم اللہ کرائی جاوے تو بچہ کو تعلیم دینے والے مولوی کو ایک عدد تختی چاندی یا سونے کی اور قلم و دوات چاندی یا سونے کی دی جاتی ہے۔اگر چہ میں ایک غریب آدمی ہوں مگر میں چاہتا ہوں کہ یہ اشیاء اپنے بچے کی بسم اللہ پر آپ کی خدمت میں ارسال کروں۔حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا: و سختی اور قلم دوات سونے یا چاندی کی دینا یہ سب بدعتیں ہیں ان سے پر ہیز کرنا چاہئے اور باوجود غربت کے اور کم جائیداد ہونے کے اس قدر اسراف اختیار کرنا سخت گناہ ہے۔“ آمین کی تقریب ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 265) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاں نومبر 1901 ء کو قادیان میں آمین کی ایک تقریب منعقد فرمائی۔جس میں بیرون قادیان سے بھی کثرت سے مہمانان شریک ہوئے۔اس موقع پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے ایک سوال کیا کہ حضور آمین جو ہوتی ہے یہ کوئی رسم ہے یا کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضور نے جو کچھ فرمایا وہ بہت سے شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور ہر کام کرتے وقت ہماری راہنمائی کرتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا:۔جو امر یہاں پیدا ہوتا ہے اس پر اگر غور کیا جاوے اور نیک نیتی اور تقویٰ کے پہلوؤں کو لحوظ رکھ کر سوچا جاوئے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں جس سے وہ اندی ہی نشو ونما پاتا رہتا ہے اور پھر اپنے شکوک وشبہات کے انڈے بچے دے دیتا ہے اور روح کو تباہ کر دیتا ہے ایسی کمزوری نفاق تک پہنچا دیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اسے پوچھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔میں اس کو داخل ادب نہیں کرتا کہ انسان اپنی روح کو ہلاک کر لے۔ہاں یہ سچ ہے۔کہ ذراذرا سے بات پر سوال کرنا مناسب نہیں اس سے منع فرمایا گیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ (385) پھر آپ نے فرمایا:۔”بخاری کی پہلی حدیث یہ ہے اِنَّمَا الاَ عُمَالُ بِالنِّيَاتِ اعمال نیت ہی پر منحصر ہیں صحت نیت کے ساتھ کوئی جرم بھی جرم نہیں رہتا۔قانون کو دیکھو اس میں بھی نیت کو ضروری سمجھا ہے مثلاً ایک باپ اگر اپنے بچے کو تنبیہ کرتا ہو کہ تو مدرسہ جا کر پڑھے اور اتفاق سے کسی ایسی جگہ چوٹ لگ جاوے کہ بچہ مرجاوے تو دیکھا جاوے گا کہ یہ قتل عمد ستلزم سزا نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ اس کی نیت بچے کو قتل کرنے کی نہ تھی تو ہر ایک کام میں نیت پر بہت بڑا انحصار ہے۔اسلام میں یہ مسئلہ بہت سے امور کوحل کر دیتا ہے پس اگر نیک نیتی کے ساتھ محض خدا کے لئے کوئی کام کیا جاوے اور دنیا داروں کی نظر میں وہ کچھ ہی ہو تو اس کی پر واہ نہیں کرنی چاہئے اصل مدعا نیت پر ہے نیت اگر خراب اور فاسد ہو تو ایک جائز مدعانیت اور حلال فعل کو بھی حرام بنا دیتی ہے ایک قصہ مشہور ہے ایک بزرگ نے دعوت کی اور اس کو نے چالیس چراغ روشن کئے بعض آدمیوں نے کہا کہ اس قدر اسراف نہیں چاہئے اس نے کہا جو چراغ میں نے ریا کاری سے روشن کیا ہے اسے بجھا دو کوشش کی گئی ایک بھی نہ بجھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی فعل ہوتا ہے اور دو آدمی اس کو کرتے ہیں ایک اس فعل کو کرنے میں مرتکب معاصی کا ہوتا ہے اور دوسرا ثواب کا اور یہ فرق نیتوں کے اختلاف سے