بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 32 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 32

47 48 دوسری قوموں میں شادی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات : 14) ترجمہ: اے لوگو! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بلا شبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔یقینا اللہ دائی علم رکھنے والا ( اور ) ہمیشہ باخبر ہے۔حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں۔”ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ دوسری قوم کولڑ کی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریقہ ہے جو احکام شریعت کے بالکل بر خلاف ہے بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں رشتہ ناطہ میں یہ دیکھنا چاہئے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجب فتنہ ہو اور یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمُ (الحجرات : 14) یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پر ہیز گار ہے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 49،48) درست نہیں۔حضرت رسول کریم ﷺ سے منگنی ( نسبت) کے بارہ میں ایک روایت ہے۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ الله قَالَ لَا يَضِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا يَخْطُبُ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ حضرت ابن عمر سے روایت کہ آنحضور علیہ نے فرمایا: تم میں کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور کوئی تم میں سے اس عورت کو شادی کے لئے پیغام نہ دے جسے کوئی پیغام دے دیا گیا ہو اور وہ راضی ہو گئی ہو۔(جامع ترمذى اَبْوَابُ الْبُيُوعِ باب ماجاء في النهي عن البيع على بيع اخيه) منگنی پر مٹھائی تقسیم کرنا نسبتوں کی تقریب پر جو شکر وغیرہ بانٹتے ہیں۔دراصل یہ بھی اسی غرض کے لیے ہوتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو خبر ہو جاوے اور پیچھے کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔مگر یہ اصل مطلب مفقود ہو کر اس کی جگہ صرف رسم نے لے لی ہے اور اس میں بھی بہت سی باتیں اور پیدا کی گئے ہیں۔پس ان کو رسوم نہ قرار دیا جاوے بلکہ یہ رشتہ ناطہ کو جائز کرنے کے لیے ضروری امور ہیں۔یادرکھو جن امور سے مخلوق کو فائدہ پہنچا ہے، شرع اس پر ہر گز زد نہیں کرتی۔کیونکہ شرع کی خود یہ غرض ہے کہ مخلوق کو فائدہ پہنچے۔“ کا منگنی کا مقصد ( ملفوظات جلد دوم ص 310) د منگنی تو ہوتی ہی اسی لئے ہے کہ اس عرصہ میں تمام حسن و تیج معلوم ہو جاویں۔منگنی کے بارہ میں ہدایت رشتہ طے کرنے کی علامت منگنی ہے۔اس موقع پر بڑی بڑی دعوتیں اور اسراف منگنی نکاح نہیں ہے کہ اس کو تو ڑ نا گناہ ہو۔“ ( ملفوظات جلد پنجم ص 231)