بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 33 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 33

50 49 حضرت خلیفۃ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک جگہ منگنی کا پیغام دیا تو آپ نے فرمایا کہ اس لڑکی کو دیکھ لو کیونکہ اس طرح دیکھنے سے تمہارے اور اس کے درمیان موافقت اور الفت کا امکان زیادہ ہے۔(ترمذی کتاب النکاح باب في النظر الى المخطوبة ) اس اجازت کو بھی آج کل کے معاشرے میں بعض لوگوں نے غلط سمجھ لیا ہے۔اور یہ مطلب لے لیا ہے کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے ہر وقت علیحدہ بیٹھے رہیں ، علیحدہ سیریں کرتے رہیں۔دوسرے شہروں میں چلے جائیں تو کوئی حرج نہیں، گھروں میں بھی گھنٹوں علیحدہ بیٹھے رہیں تو یہ چیز بھی غلط ہے۔مطلب یہ ہے کہ آمنے سامنے آ کر شکل دیکھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔بعض حرکات کا باتیں کرتے ہوئے پتہ لگ جاتا ہے۔پھر آجکل کے زمانے میں گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔کھانا کھاتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی بہت سی حرکات وعادات ظاہر ہو جاتی ہیں۔اور اگر کوئی بات نا پسندیدہ لگے تو بہتر ہے کہ پہلے پتہ لگ جائے اور بعد میں جھگڑے نہ ہوں۔اور اگر اچھی باتیں ہیں تو موافقت اور الفت اس رشتے کے ساتھ اور بھی پیدا ہو جاتی ہے۔یا رشتے کے پیغام کے ساتھ۔تو ایک تعلق شادی سے پہلے ہو جائے گا۔دوسرے لوگ بعض دفعہ ان کا کردار یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کا رشتہ ہو گیا ہے تو اس کو تڑوانے کی کوشش کریں۔ان کو آمنے سامنے ملنے سے موقع نہیں ملے گا۔ایک دوسرے کی حرکات دیکھنے سے کیونکہ ایک دوسرے کو جانتے ہوں گے۔لیکن بعض لوگ دوسری طرف بھی انتہا کو چلے گئے ہیں ان کو یہ بھی برداشت نہیں کہ لڑکا لڑکی شادی سے پہلے یا پیغام کے وقت ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ بھی سکیں اس کو غیرت کا نام دیا جاتا ہے۔تو اسلام کی تعلیم ایک سموئی ہوئی تعلیم ہے۔نہ افراط نہ تفریط۔نہ ایک انتہا نہ دوسری انتہا۔اور اسی پر عمل ہونا چاہئے۔اسی سے معاشرہ امن میں رہے گا اور معاشرے سے فساد دور ہوگا۔“ شادی بیاہ کے مواقع پر خوشی کا طبعی اظہار خطبات مسرور جلد دوم ص 934، 935) شادی بیاہ کے مواقع پر خوشی کا اظہار ہونا چاہیے۔اس موقع پر عمدہ اور پاکیزہ اشعار پڑھے جاسکتے ہیں۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ اَنْكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ۔فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟ قَالُوا نَعْمِ قَالَ اَرْسَلْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِي؟ قَالَتْ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ | الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيْهِمْ غَزْلٌ فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ آتَيْنَا كُمْ آتَيْنَا كُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ (سنن ابن ماجه كتاب النكاح باب الغناء الدف) ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے حضرت عائشہ نے انصار میں سے ایک اپنے رشتہ دار کا نکاح کیا تو آنحضور علیہ بھی وہاں تشریف لائے آپ نے پوچھا کیا تم نے دلہن کو روانہ کر دیا لوگوں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا اس کے ساتھ کوئی گانے والا بھی بھیجا حضرت عائشہ نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا انصارا ایسے لوگ ہیں جو غزل پسند کرتے ہیں تو کاش تم دلہن کے ساتھ ایک شخص بھیجتے جو ( گا کر) کہتا آتَيْنَا كُمْ آتَيْنَا كُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُم ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے اللہ تم کو اور ہم کو سلامت رکھے۔ناچ گانا ایک حدیث میں آنحضور علیہ کا ارشاد ہے۔لَيَشْرِبَنَّ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اِسْمِهَا يُعْزَفْ عَلَى