بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 31 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 31

46 45 شادی بیاہ سے متعلقہ بدرسوم اور دینی تعلیمات شادی بیاہ کے متعلق دینی تعلیمات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔شادی بیاہ کی رسم جو ہے یہ بھی ایک دین ہی ہے جبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تم شادی کرنے کی سوچو تو ہر چیز پر فوقیت اس لڑکی کو دو، اس رشتے کو دو، جس میں دین زیادہ ہو۔اس لئے یہ کہنا کہ شادی بیاہ صرف خوشی کا اظہار ہے خوشی ہے اور اپنا ذاتی ہمارا فعل ہے۔یہ غلط ہے۔یہ ٹھیک ہے جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ آیا ہوں اسلام نے یہ نہیں کہا کہ تارک الدنیا ہو جاؤا اور بالکل ایک طرف لگ جاؤ لیکن اسلام یہ بھی نہیں کہتا کہ دنیا میں اتنے کھوئے جاؤ کہ دین کا ہوش ہی نہ رہے۔اگر شادی بیاہ صرف شور وغل اور رونق اور گانا بجانا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ شروع ہو کر اور پھر تقویٰ اختیار کرنے کی طرف اتنی توجہ دلائی ہے کہ توجہ نہ دلاتے۔بلکہ شادی کی ہر نصیحت اور ہر ہدایت کی بنیاد ہی تقویٰ پر ہے۔پس اسلام نے اعتدال کے اندر رہتے ہوئے جن جائز باتوں کی اجازت دی ہے اُن کے اندر ہی رہنا چاہئے اور اس اجازت سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے۔حد تجاوز نہیں کرنا چاہئے کہ دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔“ مشعل راہ جلد پنجم حصہ سوم ص 152 ، 153) شادی کے موقع کی رسمیں "خوشیوں میں ایک خوشی جو بہت بڑی خوشی کبھی جاتی ہے وہ شادی کی خوشی ہے اور یہ فرض ہے۔لیکن ان میں بعض رسمیں خاص طور پر پاکستانی اور ہندوستانی معاشرہ میں راہ پاگئی ہیں جن کا اسلام کی تعلیم سے کوئی بھی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔اب بعض رسوم کو ادا کرنے کے لئے اس حد تک خرچ کئے جاتے ہیں کہ جس معاشرہ میں ان رسوم کی ادائیگی بڑی دھوم دھام سے کی جاتی ہے وہاں یہ تصور قائم ہو گیا ہے کہ شاید یہ بھی شادی کے فرائض میں داخل ہے اور اس کے بغیر شادی ہو ہی نہیں سکتی۔“ (خطبہ جمعہ 15 جنوری 2010ء ) | میں ہے۔آنحضور نے رشتہ کی تلاش میں دینداری کو ترجیح دینے کی تلقین کی ہے۔حدیث عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ اللهِ قَالَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِاَرْبَعِ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرُ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتُ يَدَاكَ ( بخاری جلد ٢ كتاب النكاح باب الاكفاء في الدين ) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کسی عورت سے نکاح کرنے کی چار ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں یا تو اس کے مال کی وجہ سے یا اس کے خاندان کی وجہ سے یا اس کے حسن و جمال کی وجہ سے یا اس کی دینداری کی وجہ سے لیکن تو دیندار عورت کو ترجیح دے اللہ تیرا بھلا کر۔ے۔