بدرسوم و بدعات — Page 61
105 104 پھر آپ ﷺ نے فرمایا:۔”اے لوگو! اپنی عورتوں کو زیب وزینت اختیار کرنے اور مسجد میں ناز وادا سے مٹک مٹک کر چلنے سے منع کرو۔بنی اسرائیل پر صرف اس وجہ سے لعنت کی گئی کہ ان کی عورتوں نے زیب وزینت اختیار کر کے ناز و نخرے کے ساتھ اتر کر آنا شروع کر دیا تھا۔“ (سنن ابن ماجه کتاب الفتن ، باب فتنة النساء ) حضرت خلیفہ امسح الامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔( بیت الذکر ) تو عبادت کی جگہ ہے۔یہاں ایسی عورتوں کو نہیں آنا چاہئے جن کا مقصد صرف نمود و نمائش ہو۔( بیت الذکر ) ہے، کوئی فیشن ہال نہیں ہے۔یہاں عبادت کی غرض سے جاتے ہیں۔اس لئے یہاں جب آؤ تو خالصتا اللہ کی خاطر اس کی عبادت کرنے کی خاطر یا اس کا دین سیکھنے کی خاطر آؤ۔یہی رویہ، یہی طریق، جماعتی فنکشن میں، اجلاسوں میں، اجتماعوں وغیرہ پر بھی ہونا چاہئے۔“ الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصه اول صفحه 46 ،47) ٹی وی اور انٹرنیٹ کے لغویات سے اپنے بچوں کو بچائیں حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔" آج کل کی برائیوں میں سے ایک برائی ٹی وی کے بعض پروگرام ہیں، انٹرنیٹ پر غلط قسم کے پروگرام ہیں، فلمیں ہیں۔اگر آپ نے اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کی اور انہیں ان لغویات میں پڑا رہنے دیا تو پھر بڑے ہو کر یہ بچے آپ کے ہاتھ میں نہیں رہیں گے۔۔۔اس لئے کبھی یہ نہ سمجھیں کہ معمولی سی غلطی پر بچے کو کچھ نہیں کہنا، ٹال دینا ہے، اس کی حمایت کرنی ہے۔ہر غلطی پر اس کو سمجھانا چاہئے۔آپ کے سپر دصرف آپ کے بچے نہیں ہیں ، قوم کی امانت آپ کے سپرد ہے۔احمدیت کے مستقبل کے معمار آپ کے سپرد ہیں۔ان کی تربیت آپ نے کرنی ہے۔پس خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگتے ہوئے اپنے عمل سے بھی اور سمجھاتے ہوئے بھی بچوں کی تربیت کریں اور پھر میں کہتا ہوں اپنی ذمہاری کو سمجھیں اور اپنے عہد بیعت کو جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا ا ہے اپنے آپ کو بھی دنیاوی لغویات سے پاک کریں اور اپنے بچوں کے لئے جنت کی ٹھنڈی ہواؤں کے سامان پیدا کریں۔“ الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصه اول جلدسوم صفحه 372،371) تسبیح پھیرنا ایک رسم تسبیح پر گن گن کر ورد کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بارہ میں سوال پر فرمایا۔دو تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہے اور وہ اس گنتی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا تو وہ گنتی پوری کرے اور یا توجہ کرے۔اور یہ بات صاف ہے کہ گنتی کو پوری کرنے کی فکر کرنے والا بچی تو بہ کر ہی نہیں سکتا۔انبیاء علیہم السلام اور کاملین لوگ جن کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذوق ہوتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے عشق میں فنا شدہ ہوتے ہیں۔انہوں نے گنتی نہیں کی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی۔اہل حق تو ہر وقت خدا تعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ان کے لئے گنتی کا سوال اور خیال ہی بے ہودہ ہے۔کیا کوئی اپنے محبوب کا نام گن کر لیا کرتا ہے؟ اگر سچی محبت اللہ تعالیٰ سے ہو اور پوری توجہ الی اللہ ہوتو میں نہیں سمجھ سکتا کہ پھر گنتی کا خیال پیدا ہی کیوں ہوگا۔وہ تو اسی ذکر کو اپنی روح کی غذا سمجھے گا اور جس قدر کثرت سے کرے گا۔زیادہ لطف اور ذوق محسوس کرے گا اور اس میں اور ترقی کرے گا۔لیکن اگر محض گنتی مقصود ہوگی تو وہ اسے ایک بریار سمجھ کر پورا کرنا چاہے گا۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 13 )