بدرسوم و بدعات — Page 55
رہبانیت 92 قضاء عمری ادا کرنا 93 حدیث نبوی ہے: "لَا رَهْبَانِيَةَ فِي الْإِسْلَام“ (المبسوط لشمس الدين السرخسی جلد 10 صفحه 111) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔انسان کا کمال بھی یہی ہے کہ دنیوی کاروبار میں بھی مصروفیت رکھے اور پھر خدا کو بھی نہ بھولے۔وہ ٹوکس کام کا ہے جو بر وقت بوجھ لادنے کے بیٹھ جاتا ہے اور جب خالی ہو تو خوب چلتا ہے۔وہ قابل تعریف نہیں وہ فقیر جو د نیوی کاموں سے گھبرا کر گوشہ نشین بن جاتا ہے وہ ایک کمزوری دکھلاتا ہے۔اسلام میں رہبانیت نہیں۔ہم کبھی نہیں کہتے کہ عورتوں کو اور بال بچوں کو ترک کر دو اور دنیوی کا روبار کو چھوڑ دو۔۔۔یاد رکھو وہ شخص جو کہتا ہے کہ جنگل میں چلا جائے اور اس طرح دنیوی کدورتوں سے بیچ کر خدا کی عبادت کرے وہ دنیا سے گھبرا کر بھاگتا ہے۔اور نامردی اختیار کرتا ہے۔“ ایک رکعت میں قرآن ختم کرنا ( ملفوظات جلد 5 ص 162 163 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے ایک دفعہ ذکر ہوا کہ ایک رکعت میں بعض لوگ قرآن کو ختم کرنا کمالات میں تصور کرتے ہیں اور ایسے حافظوں اور قاریوں کو اس امر کا بڑا فخر ہوتا ہے۔یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا:۔یہ گناہ ہے اور ان لوگوں کی لاف زنی ہے۔جیسے دنیا کے پیشہ والے اپنے پیشہ پر فخر کرتے ہیں۔ویسے ہی یہ بھی کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اس طریق کو اختیار نہ کیا 66 حالانکہ اگر آپ چاہتے تو کر سکتے تھے۔مگر آپ نے چھوٹی چھوٹی سورتوں پر اکتفاء کی۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 333) ایک بدعت مسلمانوں نے یہ اختیار کر لی ہے کہ ایک نماز " قضاء عمری" کے نام سے ایجاد کر لی ہے اور سال بھر نمازیں اس لئے نہیں پڑھتے کہ عید الا ضحے سے جو جمعہ پہلے آئے۔گا اس دن سارے سال کا قرض چکا دیں گے۔ایک صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ یہ قضاء عمری کیا شئے ہے جو کہ لوگ عید الا ضحے کے پیشتر جمعہ کو ادا کرتے ہیں۔آپ نے اس کے متعلق فرمایا:۔”میرے نزدیک یہ سب فضول باتیں ہیں۔نماز جورہ جائے اس کا تدارک نہیں ہوسکتا ہاں روزہ کا ہو سکتا ہے اور جو شخص عمد اسال بھر اس لئے نماز کو ترک کرتا ہے کہ " قضاء عمری" والے دن ادا کرلوں گا تو وہ گنہگار ہے اور جو شخص نادم ہو کر تو بہ کرتا ہے اور اس نیست سے پڑھتا ہے کہ آئندہ نماز ترک نہ کروں گا تو اس کے لئے حرج نہیں۔“ احتیاطی نماز ( ملفوظات جلد 3 ص 264) بعض لوگ غیر مسلم حکومت کے اندر جمعہ کے جواز اور عدم جواز کی بابت شک میں ہوتے ہیں۔ایسے لوگ جمعہ کے دن ایک تو جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں پھر اس کے بعد اس احتیاط سے کہ شاید جمعہ ادا نہ ہوا ہو ظہر کی نماز بھی پوری ادا کرتے ہیں۔اس کا نام انہوں نے احتیاطی رکھا ہوا ہے۔اس کے ذکر پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔یہ غلطی ہے اور اس طرح سے کوئی نماز بھی نہیں ہوتی کیونکہ نیت میں اس امر کا یقین ہونا ضروری ہے کہ میں فلاں نماز ادا کرتا ہوں اور جب نیت میں شک ہوا تو پھر وہ نماز کیا ہوئی۔“ ( ملفوظات جلد 3 ص 423)