بدرسوم و بدعات — Page 54
91 90 حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔پیروں فقیروں کے پاس جا کر تعویذ گنڈے لینے سے بچیں۔آپ کو اکثر ایسی مثالیں نظر آئیں گی کہ پیروں فقیروں کے پاس جا کر تعویذ لئے جاتے ہیں کسی نے بہو کے خلاف لینا ہے کسی نے ساس کے خلاف کسی نے ہمسائی کے خلاف تعویذ لینا ہے کسی نے خاوند کے حق میں تعویذ لینا ہے بے تحاشہ بدر میں پیدا ہو چکی ہیں یہ سب عورتوں کی بیماریاں ہیں یہ شرک کی طرف بڑی جلدی مائل ہو جاتی ہیں۔اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نہ سمجھنا نماز اور دعا کی طرف توجہ نہ ہونا فکر ہے تو پیروں فقیروں کے ہاں حاضریاں دینے کی۔۔۔یہ سب لغویات ہیں بلکہ شرک ہے یہ تعویذ گنڈے کرنے والی جوعورتیں ہیں اگر آپ ان کے ساتھ رہ کر ان کا جائزہ لیں تو شاید وہ کبھی نماز نہ پڑھتی ہوں۔پھر ہمارے معاشرے میں یعنی جماعت کے باہر اس میں زندہ انسانوں کے علاوہ مردہ پرستی بہت ہے۔پیروں فقیروں کی قبروں پر جاتے ہیں اور وہاں مرادیں مانگتے ہیں اب ان قبروں کو بھی لوگوں نے شرک کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔“ ( الازهار لذوات الخمار جلد 3 حصہ اول صفحہ 363 364) حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ سے تعویذ کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: تعویذ گنڈہ وغیرہ کو دستور زندگی بنالینا حد سے زیادہ جہالت ہے۔اور تمام دینی معاشرہ کی روح اس سے تباہ ہو جائے گی۔اصل دعا ہے۔حضرت مسیح موعود نے تیرہ سوسال کی جو رسوم کے خلاف ایک عظیم جہاد فرمایا۔اور دین حق کو اس کی اصل صورت پہ بحال کر نے کے لئے بہت بڑی جدوجہد فرمائی ہے۔یہی در اصل حقیقی مجددیت ہے۔اسی کا نام مہدویت ہے۔اور اس کے نتیجہ میں اب جماعت جو ابھر کر اور نکھر کر دنیا کے سامنے آئی ہے اس کا مرکزی نقطہ دعا ہے۔اس کی ساری زندگی اس کے تمام اعمال اور تمام کامیابیاں اس کی تمام کاوشیں اس کے غم و فکر کے علاج دعا میں ہیں۔اور دعا کو چھوڑ کر تعویذ گنڈوں کی طرف جانا حد سے زیادہ جہالت ہے۔یہ تاریک زمانے کی پیداوار باتیں ہیں۔اور ایسی قوموں کو الله دعا سے ہٹا کر جادو منتر وغیرہ کی طرف منتقل کر دیتی ہیں۔یہ کہہ دینا کہ رسول اکرم علی نے دم کی اجازت دی، یہ ایک بالکل الگ بات ہے۔تعویذ گنڈے کا معاشرہ پیدا کرنا بالکل الگ بات ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایسا ہر گز یہ کوئی معاشرہ نہیں تھا۔دعا ہی کا معاشرہ تھا اور جس دم کی بات کرتے ہیں اس میں سورۃ فاتحہ بطور دعا استعمال ہوتی ہے اور وہ اب بھی اسی طرح جائز ہے فاتحہ کو دعا کے طور پر آپ چاہے پانی پر پڑھ کے دم کریں اور نفسیاتی لحاظ سے اس کو برکت کے لئے دے دیں۔اس حد تک تو کوئی ہرج نہیں ہے۔لیکن تعویذ گنڈے کی جو یہ بات کر رہی ہیں یا کر رہے ہیں جو بھی ہے لکھنے والا ، یہ تو بہت | خطرناک بے ہودہ رسم ہے۔جو روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جانے والی ہے۔اور حضرت مسیح موعود کے آنے کے مقاصد کے بالکل برعکس تحریک ہے۔بالکل برعکس جماعت کا رُخ موڑنے والی بات ہے۔“ ٹونے ٹوٹکے مجلس عرفان الفضل 4 دسمبر 2002ء صفحہ 3 ریکارڈنگ 4 نومبر 1994 ء ) | حضرت مصلح موعود دنوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ : اسی طرح عورتیں ٹونے ٹو ٹکے کرتی ہیں۔اگر کوئی بیمار ہوتا ہے تو کچا تا گا باندھتی ہیں کہ صحت ہو جائے حالانکہ جس کو ایک چھوٹا بچہ بھی تو ڑ کر پھینک سکتا ہے ، تو وہ کیا کر سکتا ہے۔اسی طرح عورتوں میں اور کئی قسم کی بدعتیں اور برے خیالات پائے جاتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور جن سے سوائے اس کے کہ ان کی جہالت اور نادانی ثابت ہو اور کچھ نہیں ہوتا۔پس خوب اچھی طرح یا درکھو کہ ٹونے ٹوٹکے، تعویذ گنڈے، منتر جنتر ، سب فریب اور دھو کے ہیں جو پیسے کمانے کے لیے کسی نے بنائے ہوئے ہیں۔یہ سب لغو اور جھوٹی باتیں ہیں ان کو ترک کرو۔ایسا کرنے والوں سے خدا تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے۔“ الازهار لذوات الخمار صفحه 43 )