بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 48 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 48

80 79 میت کے ساتھ روٹیاں ایک رسم یہ ہے کہ میت کے ساتھ روٹیاں یا کوئی چیز پکا کر لے جاتے ہیں اور میت کو دفن کرنے کے بعد اسے تقسیم کرتے ہیں۔اسی طرح چھوہارے غلہ نمک وغیرہ بھی میت کے ساتھ لے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا۔"سب باتیں نیت پر موقوف ہیں۔اگر یہ نیت ہو کہ اس جگہ مساکین جمع ہو جایا کرتے ہیں اور مردے کو صدقہ پہنچ سکتا ہے ادھر وہ دفن ہوا دھر مساکین کو صدقہ دے دیا جاوے تا کہ اس کے حق میں مفید ہو اور وہ بخشا جاوے تو یہ ایک عمدہ بات ہے لیکن اگر صرف رسم کے طور پر یہ کام کیا جاوے تو جائز نہیں ہے کیونکہ اس کا ثواب نہ مردے کے لئے اور نہ دینے والوں کے واسطے اس میں کچھ فائدے کی بات ہے۔" اسقاط اور قرآن پھرانا ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 6) ایک بدعت مسلمانوں نے یہ اختیار کی ہے کہ کسی شخص کے مرجانے پر اسقاط کی رسم ادا کرتے ہیں اور قرآن شریف کو چکر دیتے ہیں اس کے بارے میں مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ بالکل بدعت ہے اور ہرگز اس کے واسطے کوئی ثبوت سنت اور حدیث سے ظاہر ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 7) نہیں ہوسکتا۔“ نیز فرمایا یہ اصل میں قرآن شریف کی بے ادبی ہے 66 ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 605) نہ اسقاط درست نہ اس طریق سے دعا ہے کیونکہ بدعتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 16) جمعرات کی روٹی بعض لوگ طعام پکانے کے لئے ایک تاریخ اور دن مقرر کرتے ہیں اور اس دن طعام پکا کر بزرگوں یا اپنے رشتہ داروں کی ارواح کو ثواب پہنچاتے ہیں۔اسی طرح جمعرات کی روٹی دینا ضروری سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مُردوں کی ارواح گھروں میں آتی اور روٹی مانگتی ہیں۔چالیس دن تک متواتر میت کے نام پر روٹی دینا ضروری سمجھتے ہیں اکثر ان میں سے نماز روزہ اور احکام شریعت کی پابندی کے لئے اتنا اہتمام نہیں کرتے جتنا کہ وہ ان رسوم کے مواقع پر کرتے ہیں۔بچہ فوت ہو جائے تو چالیس دن تک دودھ مولوی صاحب کے گھر پہنچاتے ہیں۔یہ سب مولویوں کی تراشیدہ بدعتیں ہیں۔طعام کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص سید عبدالقادر جیلانی کی روح کو ثواب پہنچانے کی خاطر کھانا پکا کر کھلاوے تو کیا جائز ہے۔تو آپ نے فرمایا۔طعام کا ثواب مُردوں کو پہنچتا ہے۔گزشتہ بزرگوں کو ثواب پہنچانے کی خاطر اگر طعام پکا کر کھلایا جائے تو یہ جائز ہے۔لیکن ہر ایک امر نیت پر موقوف ہے۔اگر کوئی شخص اس طرح کے کھانے کے واسطے کوئی خاص تاریخ مقرر کرے اور ایسا کھانا کھلانے کو اپنے لئے قاضی الحاجات خیال کرے تو یہ ایک بُت ہے اور ایسے کھانے کا لینا دینا سب حرام ہے اور شرک میں داخل ہے۔پھر تاریخ کے تعین میں بھی نیت کا دیکھنا ہی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص ملا زم ہے اور اسے مثلاً جمعہ کے دن ہی رخصت مل سکتی ہے تو حرج نہیں کہ وہ اپنے ایسے کاموں کے واسطے جمعہ کا دن مقرر کرے۔غرض جب تک کوئی ایسا فعل نہ ہو جس میں شرکت