بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 49 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 49

81 پایا جائے صرف کسی کو ثواب پہنچانے کی خاطر طعام کھلا نا جائز ہے۔“ قبر پر پھول چڑھانا ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 253 ایک رسم یہ ہے کہ قبروں پر پھول یا پھولوں کی چادر چڑھاتے ہیں یہ بھی ناجائز ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاول نور اللہ مرقدہ سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا میت کی روح کو خوش کرنے کی نیت سے قبر پر پھول چڑھانا جائز ہے۔فرمایا کہ اس سے میت کی روح کو کوئی خوشی نہیں ہو سکتی اور یہ نا جائز ہے۔اس کا کوئی اثر قرآن وحدیث سے ثابت نہیں۔اس کے بدعت اور لغو ہونے میں کوئی شک نہیں۔“ ( بدر 12 راگست 1909ء) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے 20 راگست 1958ء میں اس مسئلہ پر مضمون لکھا تھا جس میں اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ بعض چیزوں کی ابتداء بظاہر چھوٹی اور معمولی ہوتی ہے اور بات بالکل معصوم نظر آتی ہے۔لیکن چونکہ ان کا مال اور انجام تباہ کن اور شرک کی طرف لے جانے والا ہوتا ہے اس لئے اس سے منع کیا جاتا ہے۔تا کہ لوگ ہر قسم کی امکانی ٹھوکر سے بچ جائیں۔دوسرا نفسیاتی نکتہ اس میں یہ ہے کہ مرنے والا جنتی ہو گا تو یہ دنیا کے پھول اس کی قبر پر چڑھانا اس کے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔کیونکہ روح جنت کی عدیم المثال نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہی ہے خدانخواستہ اگر مرنے والا دوزخی ہوگا تو اسے یہ پھول ذرہ بھر بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔پس قبروں کا پھول چڑھانا جائز نہیں اس طرح بدعت کا راستہ کھلتا ہے۔✰✰✰