بدرسوم و بدعات — Page 34
52 51 بِالْمَعَازِفِ وَالْمُغَنِّيَاتِ يَخْسِفُهُمُ اللهُ بِهِمُ الْأَرْضَ وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ (سنن ابن ماجه) میری امت میں سے بعض لوگ شراب پیئں گے اور اس کا نام کچھ اور رکھیں گے۔ان کے سروں پر ڈھول باجے بجائے جائیں گے اور گانے گائے جائیں گے اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بندر اور سور بنائے گا۔لَهُوَ الْحَدِيْثِ کی تشریح میں حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم لَهُوَ الْحَدِيْثِ سے مراد گانا ہے گانا ہے گانا ہے۔3 دفعہ فرمایا۔(تفسير ابن كثير زير آيت "ومن الناس من يشترى لهو الحديث" جلد 4 مطبع مصر) شادی کی دف کے ساتھ شہرت کرنا جائز ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔جو چیز بُری ہے وہ حرام ہے اور جو چیز پاک ہے وہ حلال ہے۔خدا تعالیٰ کسی پاک چیز کو حرام قرار نہیں دیتا بلکہ تمام پاک چیزوں کو حلال فرماتا ہے ہاں جب پاک چیزوں ہی میں بری اور گندی چیزیں ملائی جاتی ہیں تو وہ حرام ہو جاتی ہیں۔اب شادی کو دف کے ساتھ شہرت کرنا جائز رکھا گیا ہے لیکن اس میں جب ناچ وغیرہ شامل ہو گیا تو وہ منع ہو گیا۔اگر اسی طرح پر کیا جائے جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو کوئی حرام نہیں۔66 ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 354 355 ) | شادی کے موقع پر گانا جائز ہے جو بے ضرر ہو حضرت مصلح موعودنوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں:۔بے ضرر ہو یا مذہبی ہو۔مثلاً شادی کے موقع پر عام گانے اور جو مذاق کے رنگ میں گائے جاتے ہیں وہ تو بالکل بے ضرر ہوتے ہیں ان میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ محض دل کو خوش کرنے کے لئے گائے جاتے ہیں ان کا اخلاق پر کوئی برا اثر نہیں ہوتا۔“ آپ مزید فرماتے ہیں:۔( الفضل 20 جنوری 1945ء) بیاہ شادی کے موقع پر پاکیزہ اشعار عورتیں پڑھ سکتی ہیں۔پڑھنے والی مستاجرہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔“ ( مستاجرہ سے مراد اجرت پر گانے والی ہے) یہ بھی فرمایا:۔صرف عورتوں کا عورتوں میں دف کے ساتھ پاکیزہ گانا بھی منع نہیں ہے۔“ مسلمانوں پر تباہی گانے بجانے کی وجہ سے آئی حضرت مصلح موعود دنور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں:۔(الفضل 14 جون 1938 ء) تمام تباہی جو مسلمانوں پر آئی زیادہ گانے بجانے کی وجہ سے آئی ہے۔اندلس کی حکومت گانے بجانے کی وجہ سے ہی تباہ ہوئی۔مصر کی حکومت گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔مصر پر صلاح الدین ایوبی نے حملہ کیا تو فاطمی بادشاہ اس وقت گانے بجانے میں ہی مشغول تھا۔“ ڈھولک بجا ئیں لیکن نا جائز رسمیں نہ کریں الفضل 4 ستمبر 1958 ء) ایک خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ شادی بیاہ کے موقع پر شریعت کی رو سے گانا جائز ہے مگر وہ گانا ایسا ہونا چاہئے جو نے فرمایا:۔